میلاد النبی ﷺکی محفلیں سجانا  کیسا؟

اللہ رب العزت کے بعد سب سے افضل مرتبہ نبی پاک ﷺ کا ہے ،اتنا عظیم کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے کلمئہ طیبہ میں اپنے حبیب پاک کا نام شامل فرما لیا ہے،لہذا نبی پاک کا ذکر اللہ کے ذکر کے بعد سب سے افضل کام ہے،اور اللہ کے نیک بندوں کا ذکر کرنا باعث برکت و رحمت ہے،حدیث پاک میں ہے :عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ:صالحین کے ذکر کے وقت رحمت الہی کا نزول ہوتا ہے ،اسی لیے عاشقان مصطفی ﷺبھی میلادالنبی ﷺکرتے ہیں

ہم عید میلاد النبی کیوں نہ منائیں ؟

دستورِ دنیا ہے کہ نعمتوں کے حصول پر انسان خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اورپھر جیسی نعمت ویسی اظہارِ خوشی بھی ہوتی ہے۔ محسنِ کائنات ، شہنشاہِ عرب وعجم حضور پُر نور ﷺتو اللہ کی نعمتوں میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت ہیں جو ہمیں عطا ہوئی، کیوں کہ سوائے جملہ نعمتوں کے اس نعمتِ کبریٰ کی بخشش پر رب عزوجل نے احسان جتایا۔ ارشاد ہے لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤمِنِیْنَ اِذْبَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلاً ترجمہ:مومنوں پر اللہ کا احسان ہوا کہ ان میں انہیں میں کا ایک رسول بھیجا۔

بیٹےکی تعلیم سے ایک فرد  جبکہ  بیٹی کی تعلیم سے ایک نسل سنورتی ہے!!

تعلیم ہی کل بھی ہماری ترقی اور عروج کی ضامن تھی اور آج بھی دینی دنیاوی سماجی سیاسی اور معاشرتی ساری ترقیاں اسی سے مشروط ہیں، بلکہ ہم عالمی سطح پر رسوا ہی اس لیے ہوئے کہ ہم تعلیم سے دور ہوتے چلے گئے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ جس امت کے پیغمبر تقدس مآب پر پہلی وحی ہی تعلیم و تعلم سے متعلق نازل ہوئی آج اسی نبی کی امت تعلیمی میدان میں عالمی سطح پر سب سے بد ترین صورت حال کا شکار ہے۔ پھر زوال امت کے کچھ اور اسباب تلاش کرنے کی ضرورت کیا ہے۔