حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم: فیضان رضا علیمی

حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم: فیضان رضا علیمی

از: محمد فیضان رضا علیمی، رضا باغ گنگٹی

یوں تو حضور جیلانی میاں علیہ الرحمہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری نے بسم اللہ خوانی کے وقت ہی جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما دی تھی اور آپ کے والد ماجد نے بھی ۱۹ سال کی عمر شریف میں ہی اپنی خلافت اور بزرگوں کی عنایتوں کو آپ کے حوالہ کر دیا تھا لیکن باضابطہ تحریر ی خلافت و اجازت ، نیابت و جانشینی اور اپنی ساری نعمتیں علامہ حامد رضا خان قادری نے اپنی وفات سے ڈھائی ماہ قبلہ ۲۵۔ صفر المظفر۔۱۳۶۲ھ میں عرس رضوی شریف کے پربہار موقع پر علما و مشائخ کی موجودگی میں سپرد کردیا۔اور اپنی وصیت کے مطابق مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ کو اپنا نائب، خانقاه عالیہ رضویہ کا سجاده اور جامعہ رضویہ منظرِ اسلام کا مہتمم نامزد فرمایا۔

ایسے وقت میں منظر اسلام کا اہتمام قانونی طور سے حضور مفسر اعظم ہند کے قبضے میں آیا جب دارالعلوم کی حالت بہت حد تک خراب ہوچکی تھی۔ آپ نے اس یادگارِ اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کو حیات تازه دینے کی خاطر سخت جد و جہد کی۔ محدثِ اعظمِ پاکستان مفنی سردار احمد لاہوری اور دیگر مشاہیر علماے کرام دارالعلوم کو خیرآباد کہ چکے تھے یہی نہیں بلکہ ان اساتذہ کے ہمراہ کچھ ذہین و فطين طلباے عظام بھی مدرسہ سے رخصت ہوگے تھے ایسے وقت میں منظرِ اسلام کی حالت خزاں رسیدہ چمن کے مانند تھی۔ آپ نے اپنی محنت شاقہ اور شب و روز کی کوشیشوں سے قابل اور ذی استعداد اساتذہ کو دارالعلوم میں لانا شروع کیا جن میں آپ استاد گرامی محدتِ جلیل علامہ احسان علی فیض پورم اور نامور مفتی حضرت علام سيد افضل حسين مونگیری صاحب ومفتی محمد جہانگیر خان صاحب ( قدس سرہم) جیسے علما تھے جن کو دارالعلوم میں خاص اور اعلی مناصب پر فائز فرمایا۔ منظرِ اسلام کی آبیاری کا ایسا جوش و جذبہ دل و دماغ میں موجزن تھا کہ خود بھی درس و تدریس میں لگ گئے۔ اوپر ذکر ہوا کہ جس وقت آپ نے مدرسہ کا کمان سنبھالا تھا اس وقت ادارہ مالی اور فردی دونوں اعتبار سے کمزور ہوچکا تھا آمدنی کی کمی کی وجہ سے کئی بار ایسا موقع آیا کہ آپ نے مدرسین اور دیگر عملے کی تنخواہ کی ادائیگی کے لیے گھر کے زیورات تک بیچ دیا۔

آپ علیہ الرحمہ کی جہد مسلسل اور شہرہ آفاق مقبولیت نیز خدا داد صلاحیت کی دولیت مسلمانان اہل سنت و جماعت رفتہ رفتہ دارالعلوم سے قریب ہوتے گئے اور مالی اعتبار سے آپ کا دست و بازو بنتے گئے جس کا ثمرہ اللہ پاک ایک دن دیکھا کہ اب دارالعلوم اپنی پرانی شان و شوکت کے ساتھ رواد دواں ہوگیا۔ اور اک اچھی خاصی تعداد ادارہ کے مخلصین اور محبین کی ہوگئی۔ آپ نے اہل سنت کے افکار و نظریات کو نشر کرنے اور ادارہ کی مالی حالت مضبوط کرنے کے لیے ماہنامہ اعلی حضرت کا اجرا فرمایا جو بحمدہ تعالی اب تک پابندی کے ساتھ مرکز اہل سنت کی ترجمانی کر رہا ہے اللہ کرے ایسا تاقیامت قائم رہے۔

از: محمد فیضان رضا علیمی، رضا باغ گنگٹی
مدیر اعلیٰ سہ ماہی پیام بصیرت سیتامڑھی
ناظم تعلیمات مدرسہ قادریہ سلیمیہ چھپرہ
۱۱ صفر عرس حضور مفسر اعظم ہند علیہ الرحمہ

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

بابا فرید گنج شکر

حیات بابا فرید گنج شکر رضی اللہ عنہ کے چند تابندہ نقوش

آپ تقوی و پرہیزگاری، زہد و ورع، عبادت و ریاضت، خوف خدا اور اطاعت مصطفیٰ ﷺ، ترک دنیا اور عشق و وفا، ہمدردی، خیر خواہی اور خدمت خلق میں بے نظیر زمانہ اور منفرد و یگانہ تھے۔ آپ قطب الاقطاب حضور سیّدنا سرکار خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ عنہ کے معزز مرید و خلیفہ تھے اور ان کے علم و فضل، جاہ و حشمت اور عظمت و بزرگی کے فیض یافتہ تھے اور آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کو بیک وقت آپ کے

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: