مفتی اعظم ہند اورصدرالافاضل کچھ یادیں کچھ باتیں

تقسیم درتقسیم کا شکار ملت اسلامیہ کے لئے ایثاروخلوص اورباہمی احترام کی ایک حسین روداد

غلام مصطفی نعیمی(مدیر اعلیٰ،سواداعظم دہلی)


شہزادئہ اعلیٰ حضرت پیکر تقویٰ و طہارت ہم شبیہ غوث اعظم حضرت علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خاں المعروف حضور مفتی اعظم ہند کی ذات ستودہ صفات محتاج تعارف نہیں ہے۔ان کے بارے میں پاک وہند کا ہر منصف مزاج شخص اچھی ہی رائے رکھتا ہے۔جو اپنوں اور بے گانوں میں یکساں مقبول رہے ۔جن کی زندگی زہدو قناعت اور صبروشکر کا عظیم نمونہ تھی۔جو اپنی علمی ہیبت وشوکت اور وفور علمی کے باوجود ہمیشہ منکسر المزاج رہے۔علما کی قدر دانی ان کے مزاج کا لازمہ تھی۔خلوص و ایثار گویا ان کے وجود مسعود کا ایک حصہ تھا۔اگر ان کی زندگی کے کسی بھی حصے پر خامہ فرسائی کرنے بیٹھ جائیں تو دفتروں کے دفتر کھل جائیں لیکن ہم یہاں پر حضرت مفتی اعظم ہند کی زندگی کا ایک ایسا پہلو پیش کریں گے جو اس سے پہلے شاید ہی عوام وخواص کی نگاہوں سے گزرا ہو۔
یہ پہلو سرکار مفتی اعظم ہند کے امام الہند حضرت صدرالافاضل ،آپ کے شہر اور آپ کے قائم کردہ ادارے جامعہ نعیمیہ سے والہانہ تعلق ہے۔جو ہماری تاریخ کا ایک روشن و تابناک پہلو جس پر شاید اب تک نہیں لکھا گیا ۔جو ہمارے اکابرین کی وسیع القلبی،کشادہ ظرفی ،آپسی احترام واکرام اور ایثار و خلوص کی ایک ایسی داستان ہے جہاں قدم قدم پر بوئے وفا آتی ہے،الفت و محبت کے پیمانے چھلکتے دکھائی پڑتے ہیں،رحماء بینہم کی جیتی جاگتی تصویریں نظر آتی ہیں،بلندی کردار کی نئی تاریخ رقم کی جاتی ہے،جن کا کراد و عمل آج بھی ہمارے لیے ایک روشن مینارہ ہے جس کی روشنی میں تقسیم در تقسیم کا شکار ہماری ملت کو سکون وچین مل سکتاہے،علماو مشائخ کے درمیان خلیج کو پاٹا جا سکتا ہے اورہم اپنے اختلافات کو بآسانی دور کر سکتے ہیں۔
مفتی اعظم ہند اور صدرالافاضل سے قربت:
جس وقت بارگاہ اعلیٰ حضرت میں حضرت صدرالافاضل کی پہلی حاضری ہوئی اس وقت آپ کی عمر اکیس سال تھی یہ وہ وقت ہے جبکہ حضرت مفتی اعظم ہند عمر کی محض گیارہ سال کی تھی ۔یعنی دونوں کی عمر میں قریب دس سال کا فرق تھا۔لیکن حضور مفتی اعظم ہند تو مادر زاد ولی تھے ۔وقت کے ایک عظیم بزرگ و شیخ نے ان کی ولایت کی پہلے ہی بشارت دے دی تھی ۔اسی وجہ سے مفتی اعظم دیگر بچوں سے کافی ممتاز تھے ،جیسا کہ کہاوت ہے ع
ہونہار بِروا کے ہوتے چکنے چکنے پات
اس وقت سے حضرت صدرالافاضل اور مفتی اعظم ہند کے مابین جو تعلق قائم ہوا وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہی چلا گیا،کیونکہ اس تعلق میں عمر نہیں خیالات کی یکسانیت تھی،خدمت دین کے مساوی جذبات تھے،دونوں ہی ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے واقف ورازدار تھے ۔اور اس تعلق کی بنیاد خلوص ایثار اور والہانہ محبت پرمبنی تھی۔محبت والفت احترام واکرام اور قدردانی میں دونوں بزرگ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔
جب جب اہل سنت کو مشکلات در پیش ہوئیں تو اس کے دفاع کے لیے ان دو بزرگوں کا آپسی تال میل دیکھنے والا ہوتا تھا۔تاریخ کے سینے پر ایسے کتنے واقعات درج ہیں جو میرے اس دعوے کی تائید کریں گے۔
مفتی اعظم کا صدرالافاضل سے لگائو:
جب ۱۹۲۳ء میں شدت پسند ہندئوں کی تنظیم شدھی اور سنگٹھن نے مسلم راجپوتوں کے خلاف ارتداد کی مہم چلائی اور لاکھوں مسلمانوں کو مرتد بنا ڈالا تب سرزمین بریلی سے اس فتنہ کے خلاف حجتہ الاسلام حضرت مولانا حامد رضا خاں علیہ الرحمہ نے آواز اٹھائی اور مرادآباد سے امام الہند حضرت صدرالافاضل کو یاد فرمایا آپ حاضر ہوئے تو حجۃ الاسلام نے اس فتنے کی سرکوبی کے لیے جن دو شخصیتوں کا انتخاب فرمایا وہ حضور مفتی اعظم ہند اور صدرالافاضل کی تھی۔ان کی سرپرستی میں علماکا دس رکنی قافلہ روانہ ہوا۔
اس دس رکنی وفد نے راجپوتوں کو اسلام میںواپس لانے کے لیے بڑی مشقتیں اٹھائیں اور محنتیں کیں ۔جب یہ وفد آگرہ پہنچا جہاں اس ارتدادی مہم نے کافی مسلمانوں کو دین سے برگشتہ کر دیا تھا تو وہاں کی جامع مسجد میں حضرت صدرالافاضل کا خطاب نایاب ہوا جس کی مکمل روداد تحریری روپ میں حضرت مفتی اعظم ہند نے اس طرح درج کی ہے :
’’ہمارے وفدکے بہترین رکن حضرت مولاناالمحترم مولوی محمدنعیم الدین صاحب زیدت برکاتہ نے اسلام کی شان وشوکت اورموجودہ حالت زارپردلگدازتقریرفرمائی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجمع ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہاتھا اورمسلمانوںکے دل اسلامی جوش سے لہریں ماررہے تھے۔‘‘
(دبدبہ سکندری ،مجریہ۱۹؍فروری ۱۹۲۳؁ء)
اس اقتباس کا ایک ایک لفظ کس قدر اپنائیت اور محبت سے بھرا ہے اس پر مزید تبصرہ کی گنجائش نہیں لیکن ہاں یہ بات ضرور قابل غور ہے کہ حضرت مفتی اعظم ہند اگر چاہتے تو خود بھی خطاب فرماسکتے تھے مگر آپ نے خود خطاب نہ فرما کر صدرالافاضل کو آگے بڑھایا اور ساتھ ہی ان کو وفد کا بہترین رکن بھی قرار دیا،حالانکہ اس وفد میں خود سرکار مفتی اعظم بھی شریک تھے مگر آپسی احترام کا یہ عالم کہ حضرت صدرالافاضل کو اپنے اوپر فوقیت دے رہے ہیں ۔یہ تواضع و خاکساری کی عمدہ مثال ہے اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے مَن توَاضَع لِللہ رَفعہ اللہ ۔جو اللہ کے لیے توضع اختیار کرے گا اللہ رب العزت اس کے درجہ کو بلند فرمائے گا۔
صدرالافاضل کے تعلق سے مفتی اعظم ہند کا یہ طرز عمل یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ وہ کس قدر وسیع القلب اور خوبیوں کا برملا اعتراف کرنے میں کس قدر فراخ دل تھے۔یہ تعلقات ایک طرفہ نہیں تھے بلکہ باہمی جذبہ تھا جس کا اظہار وقتاً فوقتاً دونوں جانب سے ہوتا تھا۔
مفتی اعظم ہند کا شہر صدرالافاضل سے لگائو:
ہمارے ایک عزیز اور کرم فرماحضرت مولانا نعیم الدین رضوی علیگ جو ایک مشہور عالم اور خطیب ہیں موضع تمڑیا کلاں ضلع مرادآباد کے رہنے والے ہیں انہوں نے اپنے والد ماسٹر محمد اشفاق قریشی صاحب (جو سرکارِ مفتی اعظم کے مرید ہیں)کے حوالے سے بتایا کہ جب ان کی ولادت ہوئی توان کے والد بریلی شریف حاضر ہوئے اور حضرت مفتی اعظم ہند سے ملاقات کرنے کے بعد دل کا مدعا عرض کیا کہ حضرت غلام زادہ پیدا ہواہے ،آپ اس کے بلندی نصیبہ کے لیے دعا فرما دیں اور اس کا نام بھی تجویز فرمادیں۔یہ بات سن کر حضرت مفتی اعظم ہند نے فرمایا کہ ماسٹر صاحب آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں ،انہوں نے عرض کی حضور میں مرادآباد سے حاضر ہوا ہوں ۔یہ سن کر مفتی اعظم مسکرائے اور کہا کہ’’ شہر صدرالافاضل‘‘ سے آئے ہو ،انہوں نے عرض کی جی حضور !یہ سن کر مفتی اعظم نے بڑی معنیٰ خیزی کے ساتھ فرمایا کہ جب صدرالافاضل کے شہر سے آئے ہیں تو نام بھی ان کے نام پر ہی رکھیے جایئے آپ کے اس بیٹے کا نام حضرت صدرالافاضل کے نام پر ’’نعیم الدین‘‘ رکھا جاتا ہے۔
اس واقعے سے آپ اندازہ لگائیں کہ مفتی اعظم صدرلافاضل اور ان کے شہر سے کتنی محبت فرماتے تھے اور یہ سرکارِ مفتی اعظم کی کشادہ قلبی کاایک روشن باب بھی ہے کہ اپنے مرید کے بیٹے کا نام خود پر یا اپنے شیخ پر نہ رکھ کر صدرالافاضل کے نام پر رکھا جو ان کی صدرالافاضل سے بے انتہا محبت کا کھلا ہوا ثبوت ہے ۔سچ ہی کہا ہے کسی نے کہ جب کسی سے سچی محبت ہو جایے تو اس سے منسوب چیزیں بھی پیاری ہو جاتی ہیں ۔بقولے ع
ہم کو عزیز ہے بس تیری نسبت کا خیال
صدرالافاضل کا مفتی اعظم سے لگائو:
یہ محبت وخلوص محض ایک طرفہ نہیں تھا بلکہ دونوں طرف الفت و وفا کی دلنواز خوشبو تھی۔حضرت صدرالافاضل نے مفتی اعظم ہند کو اپنے ادارے جامعہ نعیمیہ کا سرپرست اعلیٰ بنایا تھا اور مفتی اعظم ہند تا حین حیات اس منصب پر فائز رہے اور بحسن و خوبی اس کی ذمہ داریوں کو انجام دیا۔
جامعہ نعیمیہ کے بزرگ اساتذہ کرام حضرت مفتی محمد ایوب صاحب نعیمی،شیخ الحدیث جامعہ اور حضرت علامہ پروفیسر محمد ہاشم صاحب نعیمی دام ظلہما بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مفتی اعظم ہند کا معمول تھا کہ آپ جب بھی جامعہ میں تشریف لاتے تھے کبھی بھی جامعہ کا نذرانہ قبول نہیں فرماتے تھے۔جب زیادہ اصرار کیا جاتا تو فرماتے کہ حضرت صدرالافاضل نے مجھے اس ادارے کا ذمہ دار بنایا ہے اور ذمہ دار خود خرچ کرتا ہے اپنے اوپر خرچ نہیں کراتا ۔یہ کہہ کر مفتی اعظم اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر اس نذرانے میں ملا کر وہ سارے پیسے جامعہ کو واپس لوٹا دیتے۔
ایثار وخلوص کی ایسی روشن مثال کیا آسانی سے مل سکتی ہے ۔آج تو حالت یہ ہے کہ اگر ادارے کا سرپرست آرہا ہو تو اس کے استقبال کے لیے ادارے کو دل کھول کر پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے اعلیٰ قسم کی گاڑی میں آمدورفت کا انتظام کرانا پڑتا ہے،عمدہ اور پر تکلف دعوتیں اس پر مستزاد!تب کہیں جاکر سرپرست صاحب کو احساس ہوتا ہے کہ ہاں ہم اس ادارے کے سرپرست ہیں۔مگر مفتی اعظم اس قسم کے تکلفات سے کوسوں نہیں ہزاروں لاکھوں میل دور تھے۔
فارغین جامعہ نعیمیہ کے لیے تحائف لانا:
سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ جب جامعہ نعیمیہ کے سالانہ جلسہ دستار بندی کے موقع پر مرادآباد تشریف لاتے تھے تو آپ کا معمول تھا کہ جتنے بھی فارغین طلبہ ہوتے تھے سب کے لیے آپ کچھ نہ کچھ تحائف ضرور لاتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ یہ لوگ ہمارے سپاہی ہیں انہیں ملت کی حفاظت کرنا ہے جہاں بڑی مشکلات اٹھانا پڑیں گی اس لیے ان لوگوں کو تحائف دے کر ان کے دلوں کو شادو خرم رکھو تاکہ یہ خوش دلی سے فروغ دین کا کام انجام دے سکیں۔
پورے سال جامعہ نعیمیہ کے طلبہ اتنی شدت سے کسی چیز کا انتظار نہیں کرتے تھے جتنی شدت سے انہیں حضورمفتی اعظم سے ملنے والے تحفے کا انتظاررہتا تھااور جو طالب علم بھی تحفہ حاصل کرتا تھا وہ پھولا نہیں سماتا تھا۔آپ کی آمد پر پورا جامعہ گلزار ہو جاتا تھا ایسا لگتا تھا مانو ہزاروں گلاب مہک اٹھے ہوں۔کیا علما کیا عوام کیا طلبہ سبھی مفتی اعظم سے نیاز مندی کو لیکر بڑے بے قرار رہتے تھے۔
جامعہ سے محبت کا ایک ناقابل فراموش واقعہ:
ہمارے اساتذہ کرام بیان فرماتے ہیں کہ جب سرکارِ مفتی اعظم ہند جامعہ نعیمیہ میں تشریف لاتے تو آپ جامعہ کا کھانا تناول نہیں فرماتے تھے اور یہ کہہ کر انکار کر دیا کرتے تھے کہ میرے کھانے سے بہتر ہے کہ وہ کھانا کسی طالب علم کو کھلا دیا جائے۔میں یہاں کا خادم ہوں اگر نہیں کھائوں گا تو حرج کی بات نہیں مگر یہ عزیز طلبہ جو اپنے اہل خانہ کو چھوڑ کر یہاں ہمارے مہمان بنے ہیں ان کا خیال رکھنا ہم پر لازم و ضروری ہے۔اس صورت حال کو دیکھ کر استاذ الاساتذہ فقیہ النفس حضرت مفتی حبیب اللہ نعیمی رحمۃ اللہ علیہ(سابق پرنسپل وشیخ الحدیث جامعہ)آپ کو اپنے گھر پر کھانے کی دعوت پیش کرتے جسے حضور مفتی اعظم ہند اس شرط پر قبول فرماتے کہ مفتی صاحب دعوت منظور ،مگر آپ کچھ تکلف نہیں فرمائیں گے جو کچھ گھر میں بنا ہو گا بس وہی پیش کریں گے۔جب کھانے سے فارغ ہو کر چلتے تو مفتی صاحب کے بچوں کو عطیہ دیے وغیر کبھی واپس نہ ہوتے۔ہمارے استاذ محترم فقیہ العصر حضرت مفتی محمد ایوب صاحب قبلہ فرماتے ہیں کہ دستار بندی کے موقع پر کئی مرتبہ مفتی اعظم ہند نے میری دعوت قبول فرماکر اس فقیر پر بھی کرم فرمایا اور میرے گھر کوبھی اپنے قدوم میومنت سے سرفراز فرمایا۔
دونوں بزرگوں کی خد مات کا اعتراف:
جماعت اہل سنت کے ارباب حل و عقد کی نگاہ میں ان دو عظیم شخصیتوں کی کیا اہمیت تھی اس کااندازہ جماعت رضائے مصطفی کے ارکان کی جانب سے لکھے گئے اس مکتوب سے لگائیں جو انہوں نے شدھی تحریک میںامام الہند صدرالافاضل اور حضرت مفتی اعظم ہند کی بے مثال کارگزاری و جانفشانی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی بارگاہ میںخراج عقیدت اورہدیہ تشکر پیش کیا:
’’ تبلیغی سرگرمیوںکی تفصیل اورمخلص کارکنوںکی شاقہ محنتوںکامکمل تذکرہ دفتروںمیںبھی نہیںآسکتا۔۔۔۔صاحبزادہ عالیشان فاضل جلیل المکانۃ والمکان حضرت مولانامولوی مفتی شاہ محمدمصطفی رضاخاںصاحب دامت برکاتھم صدرشعبہ تبلیغ وحضرت فاضل اجل عالم بے بدل امام المناظرین استادالعلماء جناب مولانامولوی حافظ حکیم سیدمحمدنعیم الدین صاحب دامت برکاتھم کی جانفشانیاںاورمحنتیںاوران حضرات کے فیوض وبرکات اورسرگرم مساعی کاتذکرہ کے لیے جماعت کے پاس زبان نہیںہے کہ اداکرسکے انہیںکی ہمت وبرکت تھی کہ جماعت کوہرمعرکہ اورہرموقع میںامیدسے زیادہ کامیابیاںنصیب ہوئیںہم نہ ان کے اس احسان کوفراموش کرسکتے ہیںاورنہ ان کے شکریہ سے عہدہ برآہوسکتے ہیںجوتکلیفیںانہوںنے اٹھائی ہیں اور جو محنتیں برداشت کی ہیںان کے نقوش ہمارے سینوںسے کبھی محونہیںہوسکتے ہیں۔‘‘
(اخباردبدبہ سکندری ،مجریہ یکم مارچ۱۹۲۶ء)
مرادآباد میں مفتی اعظم کا بے مثال استقبال:
حضرت صدرالافاضل کی نگاہ میں مفتی اعظم ہند کی وقعت ورفعت کس قدر تھی یہ تو سرکارِ صدرالافاضل ہی جانیں مگر زمانے کی نگاہوں نے جو دیکھا تو یہی پایا کہ مفتی اعظم ہند آپ کے نزدیک انتہائی محترم ومکرم تھے جس ایک نظارہ اس وقت بھی ظاہر ہوا جب لاہور کے ایک مناظرہ سے لوٹتے ہوئے مفتی اعظم مرادآباد سے گزرے تو حضرت صدرالافاضل نے انتہائی تزک واحتشام کے ساتھ آپ کا خیر مقدم کیا۔خیر مقدم کا انداز کیا تھااس کے بارے میں السوادالاعظم کی یہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
سرکار مفتی اعظم ہند اور حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خاں علیہما الرحمہ پنجاب کے مناظرے سے واپس لوٹ رہے تھے ۔پنجاب سے آنے والی فیروزپور ایکس پریس گاڑی مرادآباد ہو کر بریلی جاتی ہے ۔اس لیے صدرالافاضل نے درخواست کی شہزادگان اعلیٰ حضرت مرادآباد میں ہو کر جائیں۔صدرالافاضل کی یہ دعوت قبول کی گئی ،اب آگے کا حال خود رپورٹ کنندہ کی زبانی سنیے۔
’’۹،فروری کو شب کے دس بجے تارسے اطلاع دی گئی کہ حضرت ممدوح صبح سات بجے پنجاب میل سے رونق افروز ہوں گے۔موسم سرما میں ۱۰،بجے شب لوگ سو جاتے ہیں کسی کو اطلاع دینے اور خبر کرنے کا موقع بھی نہ تھا لیکن باوجود اس کے صبح کو میل کے پہنچنے کے وقت مسلمانوں کی کثیر تعداد جس میں عمائد وعلما اور ہر طبقہ کے مسلمان تھے ،اسٹیشن پر موجود تھی۔والنٹیروں کی ایک جماعت جھنڈیاں لیے ہوئے منشی شوکت حسین صاحب کی سرکردگی میں صف بستہ تھی۔مجمع دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ بڑے اہتمام بلیغ سے حضرت کی تشریف آوری کا اعلان کیا گیا ہے۔گاڑی آئی اور حضرت حجۃ الاسلام اور آپ کے برادر حقیقی مفتی ہند مولانا شاہ مصطفی رضا خاں صاحب دام مجدہ اور جناب مولانا مولوی عبد الحق ساحب رئیس پیلی بھیت رونق افروز ہوئے ۔مرحبا کی صدائوں اور تکبیر کے نعروں سے فضا گونج اٹھی پھول نثار کیے گیے اور موٹروں میں آپ کا جلوس اسٹیشن سے روانہ ہو کر بازار شاہی مسجد اور منڈی چوک سے گزرتا ہوا مدرسہ عالیہ اہل سنت وجماعت مرادآباد(جامعہ نعیمیہ )میں پہنچا ۔موٹر آراستہ کیے گئے تھے راستے میں جابجامدحیہ نظمیں خوش آوازی سے پڑھی جارہی تھیں،لوگ پھول برساتے تھے،عطر اور پان پیش کرتے تھے۔ہجوم کثیر تھا بڑے شان وشکوہ کے ساتھ حضرت کی سواری مدرسے میں پہنچی تمام مجمع بیٹھ گیا۔اور حضرت صدرالافاضل مولانا مولوی حافظ حکیم محمد نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم نے مسلمانانِ مرادآباد کی جانب سے حضرت حجۃ الاسلام اور ان کے برادر حضرت مفتی ہند کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کیا اور آپ کی دینی خدمات اور حمایت ملت کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ کے طول حیات وکثرت فیوض وبرکات کی دعاکی‘‘۔
(ماہنامہ السوادالاعظم مرادآباد،مجریہ ربیع الاول وجمادی الاول ۱۳۵۲ھ)
استقبال کے جشن کو اپنی چشم تصور میں لائیں اور پھر سوچیں کہ دو طرفہ دیوانوں کی قطاریں،پھولوں کی بارش،مدحیہ نظمیں،استقبالی جھنڈے،نعروں کی گونج،نذریں پیش کرنا اور شہر کے سب سے اہم علاقوں میں اس جلوس کو نکالنے جیسا بڑا اہتمام ہر کس وناکس کے لیے نہیں کیا جاتا یقینا حضرت مفتی اعظم ہند اور حجۃ الاسلام سے صدرالافاضل کو ایک خصوصی تعلق اور لگائو تھا۔اسی لیے آپ نے اس شان و شوکت کے ساتھ جلوس نکال کر اپنی بے پایاں محبتوں کا شاندار نمونہ پیش کیا۔یہاں صدرالافاضل کے عقیدت مندوں کی دانش مندی کا بھی پتا چلتاہے کہ فروری کی سرد رات میں مفتی اعظم کی تشریف آوری کا پتا چلتا ہے اور صبح کو اسٹیشن پر ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو جاتا ہے ۔ظاہر سی بات ہے کہ صدرالافاضل کو اعلان کا موقع نہیں ملا مگر !آپ کی بارگاہ کے حاضر باش یقینا آپ کے مزاج شناس تھے اس لیے انہیں اعلان کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئی اور انہوں نے اپنے آقائے نعمت صدرالافاضل کے مزاج کو پہچان کر از خود ہی لوگوں کو اطلاع کر دی اور نماز فجر پڑھتے ہی دیوانوں کاہجوم مرادآباد کے اسٹیشن پر جمع ہو گیا۔ اور اہل مرادآباد کے اس مزاج کا بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے علما و مشائخ کی بارگاہوں میں شروع ہی سے مؤدب ،نذریں پیش کرنے اور محبت کرنے والے واقع ہوئے ہیں۔ اسیٹشن سے جامعہ نعیمیہ کا فاصلہ قریب دو کلو میٹر ہے ،مگر یہ اہل مرادآباد کا مذہبی جوش ہی تھا کہ کڑاکے کی سردی میں اپنے معزز مہمانوں کو اہلاً و سہلاً مرحبا کی صدائوں میںبڑی شان و شوکت کے ساتھ لاتے ہیں۔
حضور مفتی اعظم ہند اور امام الہند فخر الاماثل حضرت صدرالافاضل علیہما الرحمہ کی حیات مبارکہ کی یہ چند کڑیاں تھیں جو آپ کی نگاہوں سے گزری ۔جن پر محبت وخلوص اور ایثارو وفا کا رنگِ حسین چڑھا ہے ۔وقت نے مہلت دی تواس موضوع پران شاء اللہ مزید تاریخی شہادتیں پیش کروں گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اکابر کے ان معمولات کو دیکھ کر سبق حاصل کریں اور آپسی تعلقات کی نوعیت ایسے ہی رکھیں جیسے ہمارے بزرگوں کے مابین تھی ۔اگر ہم اس پر عمل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یقین جانیں ایک شاندار مستقبل ہمارا منتظر ہے۔


الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں


مزید پڑھیں:

  • Posts not found

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

ترک موالات

امام احمد رضاقادری اور ترک موالات کا درست مفہوم : المحجۃ الموتمنہ کی روشنی میں

جو دوستی اورمحبت مسلمان عورتوں کے لیےمسلمان مردوں سے جائز نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کفار و مشرکین، ﷲ عزوجل اوررسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ جائز ہوجاے۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: