فاضل بریلوی کے ایک شعر میں "جلوۂ ہرجائی” کا مطلب

فاضل بریلوی کے ایک شعر میں "جلوۂ ہرجائی” کا مطلب
مشتاق نوری

بہت پہلے پٹنہ کی ایک لائبریری میں کتب جوئی و بینی کرتے کرتے پٹنہ سے ہی نکلنے والا رضا بک ریویو کا ضخیم نمبر میرے ہاتھ لگا۔اس میں عصری جامعات کے بڑے بڑے پروفیسران کے عربی فارسی و اردو میں مقالے و مضامین شامل تھے۔عربی لسانیات اور امرؤالقیس کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ پر پٹنہ کے ہی شعبہ عربی کے ایک پروفیسر کی تحریر پڑھنے لگا۔ابھی دو تین ہی پیراگرافس پڑھے تھے کہ تحریر کے دو جملے جن میں انہوں نے عربی شاعری میں قوافی کے ساتھ ساتھ "ردیف” کا بھی ذکر کیا تھا خط کشید کرکے میں نے ایک دوست سے کہا کہ پروفیسر صاحب کے یہ دونوں جملے بالکل ہی غلط ہیں۔انہیں جاننا چاہیے کہ عربی شاعری میں صرف قوافی سے کام چلاۓ جاتے ہیں اس میں ردیف نہیں ہوتی۔میری معلومات میں عربی شاعری کا سارا ذخیرہ غیر مردف شاعری سے ہی بھرا ہے۔شاعری میں ردیف کی دریافت فارسی شعرا نے کی ہے جسے بعد میں اقتداء اردو والوں نے گلے کا ہار بنا لیا۔اس لیے پروفیسر صاحب کا امرؤالقیس کی شاعری میں قوافی کے ساتھ ردیف کی بات کرنا میری سمجھ سے پرے ہے۔
انہی دنوں گیا کے ایک معمر شاعر مشتاق ملکوی سے ٹیلیفونک گفتگو ہوا کرتی تھی۔ایک دن بات ہوتے ہوتے عقیدے اور مسلک تک جا پہنچی۔تو انہوں نے فاضل بریلوی کی شاعری کو سرے سے خارج کرتے ہوئے مجھے جبر والی خبر سنائی کہ یو پی کے ہمارے ایک شاعر (نام مجھے یاد نہیں رہا) نے احمد رضا خان کی شاعری کا منظوم جواب نامہ یا ردنامہ لکھا ہے۔انہوں نے فاضل بریلوی کے درجنوں اشعار کو شرکیہ و کفریہ قرار دے کر مجھے مزید حیرت میں ڈال دیا کہ لوگ مسلکی چپقلش میں کتنا نیچے چلے جاتے ہیں کہ کھینچ تان کر مخالف کو مورد الزام ٹھہرا ہی دینا ہے۔میں نے کہا آں جناب کا ایک دو شعر سنائیں انہوں نے جو سنایا تو بس اتنا ہی زبان سے نکلا کہ کیسے اونے پونے لوگ کس کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں تعجب ہے۔
جسے شاعری کے ابجد سے بھی مکمل واقفیت نہ ہو اسے اساتذۂ سخن کے کلام پر کلام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔شعر فہمی و شعر گوئی اعلی ذوق و کامل سخن دانی سے عبارت ہے یہ صرف حالی کے "مقدمۂ شعر و شاعری” سے یا فاروقی کے "شعر شور انگیز” کے مطالعے سے نہیں آتی۔سخن دانی،شعر فہمی و شعر شناسی ایک بڑا ملکہ کا نام ہے۔شعر شناسی مختلف علم و فن پر دسترس کا متقاضی ہے۔ شعر فہمی کے لیے صرف لغات ہی کافی نہیں۔شعر شناسی کا شعور تبھی بیدار ہوتا ہے جب ذہن میں شعر سے متعلق جملہ حقوق محفوظ ہوتے ہیں۔اور یہ بھی کہ کسی بھی بڑے شاعر کے کلام میں تاویل و تعبیر کا پہلو بہرحال موجود ہوتا ہے۔اس سے صرف نظر کرتے ہوۓ صرف لفظوں کو دیکھ کر فتوی دینا یا نقد و تبصرہ کرنا نری جہالت ہے۔
تنگ ٹھہری ہے رؔضا جس کے لیے وسعتِ عرش
بس جگہ دل میں ہے اس جلوۂ "ہرجائی” کی
پچھلے دنوں فاضل بریلوی کا یہ شعر کچھ احباب کے فیسبک وال پر دیکھا۔مگر ان میں کچھ وہ بھی تھے جو ڈائریکٹ اس شعر کو کفریہ قرار دے کر میدان مار لینے کا دعوی ٹھونک چکے تھے۔کچھ لوگوں کے بچکانہ تبصروں پر ہنسی بھی آئی اور ان کی شعر شناسی کے ہنر پر حیف کھاتے ہوۓ لاحول بھی پڑھنا پڑا۔
اس شعر کے ہرجائی لفظ پر ہنگامہ برپا دیکھا تو سوچا میں بھی اپنا کمینت لکھ دوں مگر اپنے وال کے لیے اسے ریزرو رکھا۔شعر گوئی ہو یا کوئی فنی تحقیقی مبحوث، یہ بات کافی اہم ہے کہ علم و دانش، فن و ادب کا منتہی باب کبھی بند نہیں ہوا۔اسی لیے سنجیدہ اور ذی شعور طبقے میں نقد و جرح کا کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے۔علامہ اقبال ہوں یا فاضل بریلوی ،میر و غالب ہوں یا داغ و سودا آپ کو ان سے علمی و ادبی اختلاف کا پورا حق حاصل ہے۔وہ کوئی ماورائی ہستی نہیں وہ بھی انسان ہی تھے۔مگر اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں ہوتا کہ کوئی بھی کسی سے بھی اختلاف درج کراتا پھرے۔ورنہ پھر علم و فن، بحث و تمحیص بازیچۂ اطفال بن کر رہ جائیں گے۔
"جلوۂ ہرجائی” کو ٹارگٹ کرتے ہوئے ایک شخص نے تو حد ہی کردی۔کہنے لگا کہ خدا کے جلوے کو ہرجائی کہا گیا ہے جس کا معنی ہے آوارہ اور بے وفا۔اس کے سر میں سر ملانے والے اور بھی کئی لوگ اپنے علمی افلاس کے ساتھ نکل آۓ۔
یہاں ایک بات یہ بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے ہمارے مذہبی گھرانوں کے fringe elements اپنی یاوا گوئی لے کر نکل پڑتے ہیں۔علمی بحث، ادبی تفحص و لسانی حسن و قبح سے انہیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔بس قلمی پیکار و لسانی جدال کھڑا کرنا مقصد رہتا ہے۔
اس شعر کو یا اور دیگر اشعار کو ڈھال بنا کر کوئی فاضل بریلوی کو مشق ستم نہیں بنا سکتا۔اور یہ بھی کہ اس شعر کو ہمارے دفاع کی بالکل ہی ضروت نہیں ہے۔اور نہ ہی اس شعر کو کسی تاویل یا تعبیر درکار ہے۔فنی و فکری اعتبار سے یہ شعر اتنا بڑا ہے کہ ہر کسی کی سمجھ دانی میں سما بھی نہیں سکتا۔بلکہ شعر میں موجود "جلوۂ ہرجائی” کا فکری و اصولی کینوس اتنا وسیع ہے کہ ہمارے ان نام نہاد مفکروں کی وسعت راس علم و فکر تنگ کلاہی کی نذر ہوگئی ہے۔
اردو لغات میں ہرجائی کے درجن بھر معانی درج ہیں۔(آپ دیکھ لیں!)ان مندرج معانی میں غور کرنے سے عقدہ کھل جاتا ہے کہ فاضل بریلوی کے اس شعر میں "کفر” (جیسا کہ مبصروں نے کمینٹ میں کفر گھسیڑا تھا) تو کجا کوئی سقم بھی نہیں ہے۔اگر معترضین صرف لغت دیکھ کر شعر کا معنی متعین کرتے ہیں تو اس "ہرجائی” پر بھی تھوڑا غور کرلیتے تو کتنا اچھا تھا۔
ہرجائی ایک مرکب لفظ ہے۔”ہر” ایک مستقل لفظ ہے۔ "جا” ایک الگ لفظ ہے۔”ہر” جو موجبہ کلیہ کا سور ہے اور کل کا احاطہ کرتا ہے اس کے ساتھ جا بمعنی جگہ کو ملا کر ہرجا بنایا گیا ہے مطلب ہر جگہ۔اس ہرجا کو لسانی قواعد کے حساب سے "ئی” کے اضافے سے "ہرجائی” بنا کر اسم صفت بنایا گیا ہے جیسے شیدائی،تمنائی ،دریائی،مولائی،اب ہرجائی کا سیدھا اور آسان معنی ہوا ہر جگہ رہنے والا یا ملنے والا۔اور خدا کے جلوے ہر جگہ ہیں اس سے کسے انکار ہوسکتا ہے؟
شعر میں مذکور الفاظ تنگ،وسعت عرش، جگہ اور دل کے ساتھ "جلوۂ ہرجائی” کی ترکیب پر غور کریں تو شعر کا معنوی معیار سمجھ میں آجاتا ہے۔جلوہ کے ساتھ ہرجائی کا لانا یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ شاعر ایک قادرالکلام شخصیت کا حامل ہے۔شعر رنگ تغزل اور معیاری آہنگ سے سجا ہوا ہے۔
ہرجائی سے صرف آوارہ گرد یا بے وفا مراد لینا جو اردو کے عریانیت پسند ہیجان انگیز غزل سراؤں میں مروج ہے، قطعی درست نہیں۔آوارہ یا بے وفا کے اندر منفی مفہوم پایا جاتا ہے۔بے وفا یا آوارہ ایک طرح سے سماج بدر لوگ ہی ہوتے ہیں۔مگر ہرجائی میں مثبت و محمود مفہوم پنہاں ہیں۔آوارہ یا بے وفا ہونا عیب ہے اور کسی کا ہر جگہ ہر مقام پہ ہونا بڑے کمال کی بات ہے۔اتنی گفتگو کے بعد واضح رہے کہ فاضل بریلوی کے اس شعر کو کسی بھی تاویل کے دامن میں پناہ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔اور نہ ہی کوئی یہ کہ سکتا ہے کہ لفظی تعبیر سے یہ مسئلہ کھڑا ہوا تھا کیونکہ اس میں اختلافی تعبیر کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔جب لغت ہی اپنے مفہوم متعین کردے،الفاظ اپنی صراحت پر دال ہوں،اسلوب و آہنگ کمال کے ہوں تو وہاں پھر کسی قیل و قال، مالیخولیا کے مترادف ہوگی۔
سعدی بابا کی مانیں تو تامرد سخن نگفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد ایک مسلمہ اصول ہے جس کا تحقق ثابت ہے۔ بسا اوقات خاموش رہنے میں در پردہ جہالت کی لاج رہ جاتی ہے۔کم علمی کی پردہ پوشی ہوجاتی ہے۔یہاں تک تو ٹھیک ہے۔مگر مسئلہ تب ہوتا ہے جب آدمی بول کر اپنے اندر کا عیب ظاہر کر دیتا ہے۔اس بات کو پریکٹیکل طور پر اس طرح سمجھیں۔اگر ابتدائی کلاس کے بچوں سے Question paper میں پوچھا جاۓ کہ apple کا معنی بتاؤ!
اب زید نے قابلیت بگھاڑتے ہوۓ بجاۓ سیب لکھنے کے، آم لکھ دیا تو اس سے اس کی دو فاش غلطی سمجھ میں آتی ہیں۔ایک تو یہ کہ اسے سیب کی انگلش پتا نہیں دوسرا یہ کہ اسے یہ بھی پتا نہیں کہ انگلش میں آم کو mango بولا جاتا ہے۔
ہمارے یہاں کچھ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔وہ ہر جگہ ہر موضوع پر راۓ دینا قابلیت سمجھتے ہیں۔جب کہ ہر موضوع کو دسترس میں سمجھنا ہی اول حماقت ہے۔ذہین فطین آدمی بھی کسی ایک دو ٹاپک پر بالاستیعاب پکڑ نہیں رکھ پاتا تو پھر کسی کو عقل الکل کا زعم ایک دماغی عارضہ ہی ہوسکتا ہے۔اس لیے عرض ہے کہ اختلاف کیجئے مگر قوی دلائل کی بنیاد پر۔
فاضل بریلوی کے مذکورہ شعر میں ظاہر و باطن کا ذکر چھیڑنا بھی عبث ہے۔کیونکہ اس میں ایسا کوئی ابہام یا کنایہ بھی نہیں ہے کہ اس کے معنی کو باطن کی طرف پھیرنے کی ضرورت پڑجاۓ۔اور دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ایک اچھا تنقید نگار فاضل بریلوی سے کبھی بھی یہ امید نہیں لگاۓ گا کہ ہرجائی کے استعمال کے وقت آوارہ یا بے وفا جیسے منفی مفہوم ان کے ذہن نہ رہے ہوں۔
بر سبیل تذکرہ!
اختلاف ہمیشہ سنجیدہ اور بے غبار ہو۔کسی طرح کی بھی جانبداری نہ ہو نہ عصبیت کو دخل ہو اگر ایسا ہوتا ہے تو مرحبا!یہ بندۂ کم خواندہ نعتیہ و غزلیہ مشاعروں کے درجنوں گروپ میں بحیثیت ناقد و مبصر رہا ہے۔ہنوز بنا ہوا ہے۔ایک کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا کہ لفظ دفن کو حضور کی شان کے خلاف سمجھتا ہوں جیسے گنبد خضری کو قبر لکھنا خلاف ادب سمجھتا ہوں۔بعد میں کچھ احباب فاضل بریلوی کا ہی شعر لے کر آگئے کہ فاضل بریلوی نے خود دفن کا استعمال کیا ہے۔میں نے لکھا فاضل بریلوی نے جو لکھا ہے یہ ان کی پسند ہے ان کا اپنا اعلی معیار سخن ہے جسے مجھ سا کمتر چھو بھی نہیں سکتا مگر میرا ذوق و عشق یہ ہے کہ "دفن کرنا”رسالت مآب کی شان میں مجھے اچھا نہیں لگتا۔ٹھیک ویسے ہی جیسے مستانان رسالت کہتے ہیں کہ حضور نے بال حلق کرایا۔ادبا منڈوانا نہیں بولتے۔جب کہ حلق کا مفہوم بھی وہی ہے۔(اللہ کی پناہ)مگر یاران نقطہ داں بجاۓ دلیل و حجت لانے کے الٹا میرے عشق و ذوق کو تولنے لگے۔
مشتاق نوری
۷؍دسمبر ۲۰۲۰

الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

  • Posts not found

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

ترک موالات

امام احمد رضاقادری اور ترک موالات کا درست مفہوم : المحجۃ الموتمنہ کی روشنی میں

جو دوستی اورمحبت مسلمان عورتوں کے لیےمسلمان مردوں سے جائز نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کفار و مشرکین، ﷲ عزوجل اوررسول ﷺ کے دشمنوں کے ساتھ جائز ہوجاے۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: