اسلام میں مشورے کی اہمیت و افادیت!

اسلام میں مشورے کی اہمیت و افادیت

مشورہ در حقیقت اسلام کے سیاسی نظام کا ایک اہم جز ہے، عوام اپنے معاملات میں اور حکام امور مملکت میں اگر مشورے سے کام لیں تو پشیمانی اور اس کے عظیم نقصانات سے محفوظ ہو جائیں۔ عام طور پر کسی سے مشورہ اس وقت لیا جاتا ہے جب کسی معاملے اور ادارے میں انسان کو تیقن حاصل نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں وہ شش و پنج کی حالت میں مبتلا رہتا ہے۔ جب وہ اپنے ارادے اور اپنی نیت پر لوگوں سے تائید حاصل کرلیتا ہے تو اسے اپنے ارادے پر پورا اعتماد حاصل ہو جاتا ہے۔ تب جاکر وہ اپنے قدم کو آگے بڑھاتا ہے۔ اور اگر مشیر نے اس کے ارادے کے خلاف مشورہ دیا تو وہ ناکامی و نامرادی کے خوف سے اپنا ارادہ تبدیل کر دیتا ہے۔

 مشورہ کی اہمیت از روئے قرآن
     مشورے کی اہمیت و افادیت کے لئے یہی ثبوت کافی ہےکہ قرآن عظیم میں”شوریٰ“ نام کی ایک سورت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوبﷺ  کو اپنے صحابہ سے مشورہ کرنے کا بھی حکم فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمان الہٰی ہے: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ان اللہ یحب المتوکلین
 ترجمہ: ,, اور ( اے محبوبﷺ)  کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو، پھرجب کسی بات کا پختہ ارادہ کرلو، تواللہ پر بھروسہ کرو، بےشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔،،( آل عمران آیت: ۱۵۹)
     اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو مشورہ کرنے کا حکم اس لئے نہیں دیا کہ آپﷺ کو ان کے مشورے کی ضرورت تھی بلکہ اس میں حکمت یہ تھی کہ انہیں مشاورت کی شان کا پتہ چل جائے اور اِس میں آپ کے غلاموں کی دِلداری بھی ہو جائے اور عزت افزائی بھی اور اس میں یہ فائدہ بھی ہےکہ مشورہ سنت ہوجائے گا اور آئندہ امت  اِس سے نفع اُٹھاتی رہے گی۔ جیساکہ علامہ قرطبی، علامہ نسفی، ابن کثیر، امام سیوطی، اور دیگر مفسرین نے اپنی تفاسیر میں کچھ ایسا ہی بیان کیا ہے۔
     پھر حکم ہوا کہ مشاورت کے بعد جب آپ ﷺ کسی چیز کا پختہ ارادہ کرلیں، تو اللہ عزوجل پر توکل کرتے ہوئے اسی پر عمل کریں، اپنے مشورے اور عزم پر ہرگز بھروسا نہ کریں، کیونکہ جو اپنے تمام ارادوں میں صرف اللہ عزوجل کی ذات پر توکل کرتا ہے، تو وہ اس کے کاموں میں برکتوں اور رحمتوں کو انڈیل دیتا ہے، اور مستقبل کی ناکامی و نامرادی سے بچا کر کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے، نیز توکل کرنے والوں کو وہ بے انتہا پسند بھی فرماتا ہے۔ 
    توکل کے معنی ہیں،  اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتماد کرنا اور کاموں کو اُس کے سپرد کردینا۔ مقصود یہ ہے کہ بندے کا اعتماد تمام کاموں میں اللہ عزوجل پر ہونا چاہیے، صرف اسباب پر نظر نہ رکھے۔
       حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو اللہ عزوجل پر بھروسہ کرے تو ہر مشکل میں اللہ تعالیٰ اسے کافی ہو گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو اور جو دنیا پر بھروسہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے سپرد فرما دیتا ہے۔،، (معجم الاوسط، ۲/۳۰۲، الحدیث: ۳۳۵۹)
اور  حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ  نے ارشاد فرمایا: ’’ اگراللہ عزوجل پر جیسا چاہیے ویسا توکل کرو، تو تم کو ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر لوٹتے ہیں۔،، (روہ الترمذی، الحدیث: ۲۳۵۱)

مشورہ کی اہمیت ازروئے حدیث
     حضرت عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، کہ حضورﷺ نے فرمایا: ,, اللہ تعالیٰ نے مشورہ میری امت کے لئے رحمت بنا دیا ہے، جو آدمی مشورہ کرتا ہے، وہ ہدایت سے محروم نہیں ہوتا، اور جو اسے ترک کرتا ہے وہ گمراہی سے نہیں بچ سکتا۔“ ( رواہ شعب الایمان، الحدیث: ۷۵۴۲ )
    مروی ہے: ,, کہ جب کوئی قوم کسی معاملے میں باہم مشورہ کرتی ہے تو مشورہ کی برکت سے عمدہ ترین کام کی طرف اس کی رہنمائی کی جاتی ہے۔،، (تفسیر طبری ج: ۴ ص: ۱۰۰)
     رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ,,مشورہ کرنے والا شخص کبھی حق سے محروم نہیں ہوتا اور اپنی ذاتی رائے کو کافی سمجھنے والا خود پسند شخص کبھی سعید نہیں ہوسکتا۔،، ( تفسیر قرطبی ج: ۴ ص: ۲۵۱)
   اورحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: ,, میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ لوگوں سے مشورہ کرنے والا ہو۔،، (روہ الترمذی )
  نیز  حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ میں نے رسول اللہﷺ کے صحابہ سے زیادہ کسی قوم کو مشورہ کرتے نہیں دیکھا۔ (رواہ الترمذی، الدیث: ۱۷۱۴)  
     حضرت جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں: ,, کہ جب تم سے کوئی اپنے مسلمان بھائی سے مشورہ طلب کرے تو اسے مشورہ دے دے۔،،(ایضاََ)  

 عہد نبوی میں مجلس شوری کے اجلاس   
    انس بن مالک اور ابن عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مدنی دور کے آغاز میں لوگ نماز کے اوقات اپنے اپنے اندازے سے متعین کرتے تھے ایک روز اس کے لیے مشورہ کیا گیا تو کسی نے یہود کے بوق(سینگ)کی تجویز پیش کی، اور کسی نے نصاریٰ کے ناقوس (چھوٹی لکڑی کو بڑی لکڑی پر مارنا )کی، مگر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تجویز پیش کی کہ ایک شخص کو مقرر کیا جائے جو نماز کے اوقات میں بلند آواز سے لوگوں کو بلائے، چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کام پر حضرت بلال  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مقرر فرمایا۔ (رواہ البخاری، الحدیث: ۸۵)
     حضرت بلال  رضی اللہ تعالیٰ عنہ آواز سے یہ کلمات فرمایا کرتے تھے بعد میں عبداللہ بن زید  رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خواب میں اذان کے مروجہ الفاظ سے اور پھر آپ ﷺ نے انہی کلمات کے ساتھ اذان دینے کا حکم دیا۔
     اس کے علاوہ بعض دیگر امور میں بھی مثلاً عسکری، قبائیلی، سیاسی، سماجی، معاشرتی، معاملات میں بھی نبی اکرمﷺ صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ کام پوری چستی اور دلجمعی کے ساتھ انجام دیں۔ 
     علامہ” ابن کثیر“نے عہد نبویﷺ کے ایسے کئی مشاورتی واقعات کو اپنی مشہور زمانہ تفسیر، ابن کثیر میں بیان فرمایا ہے۔ مثلاََ جنگ بدر، کے موقع پر لشکر کی قیام گاہ کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت منذر بن عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے آگے بڑھ کر پڑاؤ ڈالنے کا مشورہ دیا، غزوہ احد کے موقع پر بھی صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ مدینہ میں رہ کر دفع کرنا چاہیے یا باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے، تو اکثر صحابہ کرام نے مدینے سے باہر مقابلے کی رائے دی، اور آپ نے ان کے مشورے پرعمل کیا، اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ اس سال مدینے کی پیداوار کا تیسرا حصہ دے کر ان گروہوں سے صلح کر لی جائے لیکن حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی رائے مختلف تھی، اس لئے آپ نے صلح کی تجویز کو ترک کردیا، اسی طرح حدیبیہ کے دن اس معاملے میں مشورہ کیا کہ کیا مشرکین کے گھروں پر حملہ کر دیا جائے تو حضرت ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےعرض کی کہ ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے بلکہ عمرہ کے لئے آئے ہیں۔ آپﷺ نے ان کی بات منظور کرلی، حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگی تو آپﷺ نے فرمایا: ,, اے مسلمانوں! مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میرے اہل خانہ کے بارے میں تہمت لگائی۔ قسم بخدا میرے علم میں میرے اہل خانہ نے کوئی برائی نہیں کی۔ مزید فرمایا: کہ میں اپنے اہل خانہ کے متعلق خیر کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔ الغرض آپﷺ جنگ اور دیگر معاملات میں صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ (تفسیر ابن کثیر، ج: ۲ ص: ۱۳۱)

عہد صحابہ میں مجلس شوری کا قیام
    اسی طرح آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی صحابہ کرام کا یہی معمول تھا۔ انہیں مومنین کے بارے میں ارشاد الٰہی ہے:وامرھم شوری بینھم ترجمہ: ,, اور ان کے سارے کام باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔“ ( سورۃ الشوری آیت: ۳۸ )
      اس آیت مقدسہ کی عملی تفسیر اصحاب رسولﷺ کے حالات زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی امور میں اپنے احباب سے ہمیشہ مشورہ لیا کرتے تھے اور اجتماعی و قومی امور بھی مشورے ہی سے انجام دیتے تھے۔ جیسا کہ کتب سیر و تواریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین کا انتخاب مشورے سے عمل میں آیا، پھر ان تمام خلفاء نے اپنی اپنی مدت خلافت تک باہمی مشاورت سے ہی امور مملکت کو انجام دیتے رہے۔ لیکن خلیفہ ثانی حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں باقاعدہ جلیل القدر صحابہ پر مشتمل مجلس مشاورت قائم فرما کر اسلام کے سیاسی نظام اور اسلامی حکومت  کے ہر کام میں گویا قیامت تک کے لئے ایک نظم پیدا کردی ، پھر تو اسلامی حکومت کے دینی، قانونی، جنگی، سیاسی، یعنی ہر قسم کے مسائل اسی مجلس مشاورت میں پیش کئے جانے لگے جہاں متعدد صحابہ کی رائے کے بعد امور طے پاتے تھے۔ اسی مجلس مشاورت کا ایک مشہور واقعہ ہےکہ قیصر و کسری کے مقابلہ کے لئے حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنفس نفیس جانے کا فیصلہ فرمایا ، لیکن جب مجلس شوری میں یہ بات رکھی گئی تو حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مخالفت کی اور نامناسب قرار دیا۔ ممبران شوری نے آپ کی تائید کی لہذا اسی پر عمل ہوا، پھر حضرت عمر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف نہ لے گئے۔

مشورہ میں اسلامی احکام سے روگردانی باعث ندامت
    البتہ جب کبھی شوری اللہ و رسول کے خلاف مشورہ دے تو اس کو رد کرکے حکم الٰہی اور مرضئ رسول پر عمل کیا جائے۔ ورنہ خلاف ورزی کی صورت میں دنیا و آخرت میں پشیمانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس کا خاص خیال رکھا کرتے تھے، جیسا کہ مرض وصال سے چند روز پہلے کا واقعہ ہے جبکہ حضورﷺ بستر علالت پر تھے، اسی دوران آپﷺ نے ملک شام کی طرف لشکر بھجنے کا رادہ فرمایا، جس کے سالار حضرت اسامہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ منتخب کئے گئے، اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسے بہادر صحابہ بھی تھے جن کے ناموں سے کفاروں کے پیروں تلے سے زمینیں کھسک جاتی تھیں۔ روانگئ لشکر سے کچھ روز پہلے حضورﷺ کا وصال ہوگیا۔ پھر جب یار غار محبوب حضرت ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند خلافت پر جلوہ بار ہوئے تو سب سے پہلے جو آپ نے جوحکم جاری فرمایا تو اس لشکر کی روانگی کا، تو متعدد صحابہ نے اس حکم کو خلاف احتیاط سمجھا اور حضرت ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشورہ دیا کہ اس لشکر کو فی الحال ملتوی کردیا جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ حضور علیہ السلام کے وصال کی خبر سن کر مدینہ پر دشمن حملہ کر دے پھر تو ایسی صورت حال میں مدینہ کی سلامتی کا  تحفظ کرنا ہمارے لئے مشکل ہو جائے گا تو حضرت ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس رائے کو رد کرتے ہوئے فرمایا:   کہ قسم بخدا اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ اس لشکر کی روانگی کے بعد مجھ پرآسمان ٹوٹ پڑے گا یا مجھے زمین نگل جائے گی تب بھی اسے ضرور روانہ کروں گا اور حضور علیہ السلام کے ارادے کے خلاف ہر گز قدم نہ اٹھاؤں گا۔ 
      اسی طرح منکرین زکوٰۃ کے خلاف فیصلہ فرمایا، تو صحابہ کرام نے اس کو بھی خلاف مصلحت قرار دیا اور نرمی سے پیش آنے کا مشورہ دیا، لیکن آپ نے قرآن و حدیث کے فیصلے کے مطابق فرمایا، کہ شریعت کے کسی رکن کا بھی منکر مرتد ہے جس کی سزا قتل کے سوا کچھ بھی نہیں مجھے کسی شرعی حکم میں نرمی اور تبدیلی کا اختیار نہیں۔

مشورے کے سلسلے میں دو اہم باتیں
    مشورے کے سلسلے میں دو اہم باتیں قابل غور ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ مشورہ ”صاحب الرائے“ لوگوں سے لیا جائے یعنی ایسے لوگوں سے جو صحیح رائے دینے کی صلاحیت رکھتے ہوں نیز قابل اعتماد ہوں اور جس معاملے میں ان سے مشورہ لیا جا رہا ہے وہ اس کا پورا علم رکھتا ہو مثلاً صحت سے متعلق مشورے کی ضرورت ہو تو ایسے لوگوں کو تلاش کیا جائے جو امراض اور اس کے علاج سے واقف ہوں۔ قانون سے متعلق رائے لینا ہو تو قانون داں لوگوں سے رابطہ کیا جائے۔ ملکی قومی معاملہ ہو تو امور مملکت سے واقف لوگوں کو مشیر بنایا جائے۔ جیساکہ نبی اکرمﷺ کا ارشاد پاک ہے: ,, کہ  عقمند آدمی سے مشورہ لو اور اس کے خلاف نہ کرو ورنہ ندامت اٹھانی پڑے گی ( احکام القرآن: ۱/ ۴۵۱)
    ہم آج اس لئے ندامت اٹھا رہے ہیں کہ اولاً تو ہم کسی سے مشورہ کرتے ہی نہیں، اور کرتے بھی ہیں تو مانتے نہیں اپنی من مانی ہی کرتے ہیں۔ اور حکام اپنا مشیر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو چاپلوس اور خوشامدی ہو۔ ان کا مشورہ ”جی حضور“ سے آگے نہ بڑھتا ہو، اپنے منصب کے تحفظ، مراعات کے لالچ میں یہ ظالم کبھی سوچتے کہ حکومت کے اس فیصلے سے قوم کو کیا نقصان ہوگا۔ یا خود حکومت کا کیا حشر ہوگا۔
   اور دوسری بات یہ کہ مشورہ دینے والے پر بھی بڑی اہم ذمہ داری عائد کی گئی ہے چونکہ غلط مشورہ دینا دھوکہ ہے اور مشورہ کبھی خفیہ طور پر بھی کئے جاتے ہیں جس کا کسی مصلحت شرعی کی بنیاد پر چھپانا ضروری ہوتا ہے، مشیر کے اندر یہ عادت ہر گز نہ ہونی چاہئے  کہ ادھر راز دار بن کر ایک طرف مشورہ دے اور دوسری طرف اڑا دے، حدیث شریف میں ارشاد ہوا، حضرت جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے ہیں: ,, کہ جب تم سے کوئی اپنے مسلمان بھائی سے مشور طلب کرے تو اسے (صحیح صحیح )مشورہ دے دے۔،، (ایضاََ)  
    اور خفیہ مشورہ جو غیر شرعی نہ ہو امانت ہے اور امانت کے تعلق سے قرآن کریم میں فرمایا گیا: ان اللہ یأمرکم ان تؤدوا الامانات الٰی اھلھا ترجمہ: بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے (اے ایمان والوں) کہ تم امانتیں ان کے حقداروں کو ادا کرو، (سورۃ النساء: ۵۸ )
     نیز حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے فرمایا: ,, کہ جس سے مشورہ کیا جائے ، وہ امین ہے۔،، (رواہ الترمذی، الدیث: ۲۷۴۷) 
     لہذا مذکورہ باتوں سے ثابت ہوا کہ جس سے مشور کیا جائے، اس پر یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے بھائی کوصحیح صحیح مشورہ دے اور جوباتیں مشورے سے طے ہو جائے  بغیر اس کی اجازت کے کسی کے پاس ظاہر نہ کرے۔ 

مشیر کے بعض صفات
    شرعی احکام کا معاملا ہو تو معتمدصحیح العقیدہ عالم سے مشورہ لیں، دنیاوی امور میں جس سے چاہیں مشورہ لیں مگر اتنا ضرور خیال رکھیں کہ وہ شخص امین اور دیانت دار ہو، گہری بصیرت رکھتا ہو، عاقل و بالغ ہو، فاسق و فاجر، اور اخلاقی جرائم کا عادی نہ ہو، معتمد اور مخلص ہو، تاکہ مشورہ دینے میں مخلصانہ رخ اپنائے، عرف عام سے باخبر ہو، جس مسئلے کے تحت مشور لیا جا رہا ہو، اس میں مہارت رکھتا ہو یا اس کے گرد وپیش کی خبر رکھتا ہو۔
    حاصل کلام یہ ہے کہ مومن مسلمان کا کردار و عمل اطاعت الٰہی اور سنت نبویﷺ کے جذبے سے سرشار ہونا چاہیے، مشورہ ایک حکم ہے  اس پر عمل پیرا ہونے سے انسان عظیم خسارے سے امان میں آجاتا ہے۔  بھاگ دوڑ والی زندگی میں ہر انسان کسی نہ کسی الجھن اور مسئلے میں ضرور گھرا ہوتا ہے، اس گھیرا بندی سے نکلنے کے لئے بسا اوقات بہت غور وفکر کے بعد بھی انسان فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے، جب ایسی صورت حال پیدا ہو، تو صاحب الرائے لوگوں سے مشورہ لیں۔ ان شاء اللہ العزیز مشورے کے بعد تمام دھندلے راستے صاف و شفاف آئینہ کی طرح نظر آنے لگیں گے یا مشیروں کی مخالفت کی صورت میں بھاری نقصان سے آپ محفوظ ہو جائیں گے۔ مگر خیال رہے کہ مشورہ کے بعد اگر کسی کام کے کرنے کا عہد کرلیا ہے تو ساتھ ہی مالک حقیقی کی ذات پر توکل بھی ہونا چاہیے جبھی  کامیابی آپ کا قدم چومے گی۔

تحقیق و تالیف
غلام ربانی شرفؔ نظامی
خطیب و امام چودھری مسجد اٹالہ الہ آباد
sharafnizami@gmail.com


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

ماں

ماں کا مقام قرآن وحدیث کی روشنی میں 

   ماں ایک باشعور اور عظیم خاتون ہے- جو بچوں کی زندگی میں باد صبا کی مانند ہے- جو اولاد کے لیے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتی ہے- جو اپنی اولاد کی خاطر اپنی آرزوؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے،

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔