علمائے کرام کی توہین اور شرعی احکام!!

علمائے کرام کی توہین اور شرعی احکام:
(ایک لمحۂ فکر)

از قلم: محمد توصیف رضا قادری علیمی


اعلٰی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں: فقہاء کرام نے عالم کی توہین کو کفر قرار دیاہے-(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴،ص۶۴۶) نیز فرماتے ہیں :عالم کی توہین اگر بوجہ علم دین ہے بلا شبہ کفر ہے (فتاوٰی رضویہ،ج ۱۵،ص۱۶۴)
اور ایک جگہ عالم کی توہین کی تین صورتیں اور ان کے بارے میں شرعی حکم بیان فرماتے ہیں : (۱) اگر عالمِ (دین) کو اس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے (۲) اور بوجہِ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دُنْیَوی خُصومت (دشمنی) کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا (ہے اور) تحقیر کرتا ہے تو سخت فاجر ہے (۳) اور اگر بے سبب (بلا وجہ) رنج (بغض) رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْب وَخَبِیْثُ الْبَاطِن (دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے) اور اس (خواہ مخواہ بغض رکھنے والے) کے کفر کا اندیشہ ہے (فتاویٰ رضویہ، ج ۲۱، ص ۱۲۹۔ملخصاً)

یہاں عوام کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے کہ کوئی کسی سنی عالمِ دین پر اعتراضات یا بکواسات کر رہا ہو تو وہ جان لیں کہ اگر علمِ دین کی توھین کی نیت سے کچھ کہا تو کافر ہو جائے گا معاذ اللہ اور اس سے تجدید ایمان، تجدید نکاح، تجدید بیعت لازم، اور اگر علمِ دین کی توھین مقصود نہیں یعنی مقصد دنیاوی خصومت ہو اور اُن سے اختلافات کی بنا پر برا کہتا ہو تحقیر کرتا ہو تو وہ سخت فاجر ہے اور اگر بلا وجہ بُغض رکھتا ہے تو ایمان کی خیر منائے کہ فقھاء نے لکھا کہ صحیح العقیدہ عالمِ دین سے بغض رکھنے والے کا کفر پر خاتمے کا اندیشہ ہے۔

اس حوالے سے اعلیٰ حضرت قدس سرہ مزید فرماتے ہیں: عالمِ دین سُنّی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نائِب ہے۔ اس کی تحقیر(توہین) مَعَاذَ اللہ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین ہے اور محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جناب میں گستاخی مُوجِبِ لعنتِ الٰہی و عذابِ الیم ہے۔(فتاویٰ رضویہ، ج۲۳، ص۶۴۹) اسی طرح ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں: عالم سنی العقیدہ کی توہین جاہل کو جائز نہیں،اگر چہ اس کے عمل کیسے ہی ہوں (فتاویٰ رضویہ،ج ۲۱،ص۲۹۴)

اور حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: عوام کو علماء سے بدظن کرنا بہت سخت گناہ ہے کہ جب بدظن ہونگے (تو) اُن (یعنی علما) سے بیزار ہونگے اور ہلاکت میں پڑیں گے (فتاویٰ امجدیہ، ج ۴، ص ۵۱۵)یعنی یہ چیز بالکل واضح ہے کہ علماء کرام کی شان میں گستاخی کرنا ، ان کی اہانت کرنا ، ان کا مذاق اڑانا اور تحقیر کرنا یہ سب انتہائی نقصان کا باعث ہے بلکہ سبب ہلاکت ہے،

اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب فرمائے کہ جو علمائے کرام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہنا اپنا محبوب مشغلہ بنا لیا ہے (معاذ اللہ من ذلک) اور اُن علماء کو بھی عقل سلیم عطا فرمائے کہ جن کے وجہ سے عوام ‘علمائے کرام سے بے زار ہو رہے ہیں، متنفر ہو رہے ہیں،اُن سے بدظن ہو رہے ہیں اور اُن کی توہین کر رہے ہیں (العیاذ باللہ)

کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ علماء‘ خود اپنی وقار کو مجروح کیا ہے، عوام کے سامنے دوسرے عالم دین کی برائی کرنا اپنا شیوہ بنا لیا ہے، ایک دوسرے پر کچر اچھال کر اپنی ہی عزت کو پامال کیا ہے، ذاتی اختلافات کو ڈھال بنا کر معاشرے کی فضا کو بگاڑ دیا ہے اور یہ افسوس ناک ہے، اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔

یہ کتنی عجیب بات ہے کہ وہ پاک طینت افراد جنہوں نےجہد مسلسل اور عمل پیہم کے ذریعہ دین کی حفاظت کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے، دین اسلام پر وارد ہونے والےہر اعتراض کا قرآن و حدیث کی روشنی میں دفاع کرتا ہے بلکہ ہر طرح کی قربانی پیش کر کے دین وسنت کی حفاظت و اشاعت میں مشغول رہتا ہے اور احادیث میں جنہیں زمین کے چراغ اور انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وارث قرار دیا ہے، اُن کی شان میں گستاخی کرنا ؟؟ یقیناً بڑا جرم ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں علمائے کرام کی بے ادبی سے محفوظ فرمائے، اُن کی عزت و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے نیز جو علماء برسرِ عام دوسرے عالم دین کی تحقیر کرتے ہیں اُن کے دل میں محبت عطا فرمائے اور ایک دوسرے سے استفادہ کرنے کی توفیق بخشے (آمین)

از قلم: محمد توصیف رضا قادری علیمی
(بانی الغزالی اکیڈمی و اعلیٰحضرت مشن، آبادپور
تھانہ (پرمانک ٹولہ)ضلع کٹیہار بہار، الھند 


الرضا نیٹ ورک کو  دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جوائن کریں:
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ  (۲)جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کو ٹویٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں۔
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں۔

مزید پڑھیں:

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

ماں

ماں کا مقام قرآن وحدیث کی روشنی میں 

   ماں ایک باشعور اور عظیم خاتون ہے- جو بچوں کی زندگی میں باد صبا کی مانند ہے- جو اولاد کے لیے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتی ہے- جو اپنی اولاد کی خاطر اپنی آرزوؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے،

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: