شاہد نوری: حیات وخدمات

شاہد نوری حیات وخدمات

دیار شاہد ملت جامعہ شاہدیہ کوثر اسلام ملنگوا،وارڈ نمبر ۳،ضلع سرلاہی (نیپال) کے زیر اہتمام مؤرخہ ۳؍دسمبر ۲۰۲۲ء؁ بروز سنیچر منعقد ہونے والے یک روزہ منفرد المثال نیشنل سیمینار بعنوان ’’شاہد نوری حیات وخدمات‘‘ میں پیش کیا گیا مقالہ۔

تحریر: محمد امجدرضا امجدی کھٹونوی
امجدی کمپیوٹر،مرغیاچک،سیتامڑھی(بہار)

حامدا ومصلیا ومسلما
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم،بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ان المتقین فی جنّٰت وعیون
بے شک پرہیز گار باغوں اور چشموں میں ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت جل جلالہ نے تقریباً ۱۸؍ہزار عالم کی تخلیق فرمائی اور اس عالم میں سب سے افضل واعلیٰ یعنی اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بنایا۔ ابتداے آفرینش سے ہر ادوار میں ابو البشر سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر فخررسلاں،خاتم پیغمبراں حضور تاجدار مدینہ جناب احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ علیہ التحیۃ والثنا تک کم وبیش ۱؍لاکھ ۲۴؍ہزار یا ۲؍لاکھ ۲۴؍ہزار پیغمبران عظام ،رسلان کرام کو امام ومہدی بنا کر مبعوث فرمایا۔ سبھوں نے اپنے اپنے ادوار میں ایک رب کی عبادت کا درس دیا، ایک ہی رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا، توحید باری تعالیٰ کے نور سے ضلالت و گمراہی کی ظلمت کافور فرمایا۔
اسی طرح درجۂ ولایت پر فائز اولیاء اللہ نے بھی مذہب مہذب "مذہب اسلام کی شجرکاری فرمائی اور اس کی آبیاری کیلئےجابجا خانقاہ، مجاہدہ گاہ، مکاتب ، مدارس اور مساجد کا قیام فرمایا۔اللہ وحدہٗ لاشریک کے بھٹکے ہوئے بندوں کوکفرستان کی گھٹا ٹوپ اندھیری وادیوںسے صراط مستقیم پر گامزن کیا اوراسلام کا کلمہ پڑھایا۔ذرۂ ناچیز کو ہمدوشِ ثریا کردیا۔ چورکو ولی رہزنوں کو ہادی بنادیا۔مصائب میں گرفتار افراد کی بروقت امداد فرمایا۔ مریدین ومعتقدین کو خداو رسول کی الفت ومحبت کے جام سے سیراب وسرشار کیا۔
انھیں شخصیت ساز ،منکسرالمزاج ویکتاے روزگاراولیاء اللہ میں مرد حق آگاہ استاذ العلما،عالم ربانی، شاعر لاثانی،واعظ باکمال، صاحب اورادواشغال حضرت علامہ مولانا مفتی عین الحق شاہد نوری علیہ رحمۃ النوری کی ذات عالی صفات ہے۔
آپ نے اسلاف کے طرز حیات کو نمونہ بناکرپوری زندگی بسر فرمائی۔ پاکیزہ خیالات،مذہبی روایات،سماجی خدمات کا پاس ولحاظ رکھنا آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ارباب علم ودانش واہل فکر ونظر نے آپ کا شمار نابغۂ روزگار عبقری شخصیات میں کیا ہے۔ ہر مید ان کمر بستہ ہوکر سر کرنے کا فن بخوبی جانتے تھے۔تقابل ادیان ہو یا مستشرقین کا ردوابطال،فقہ و فتاویٰ کی گہرائی ہو یا تحقیق وتفتیش کی گیرائی،وعظ وتبلیغ ہو یا تحریر وتقریر کا میدان، تحریکی وتنظیمی خدمات ہوں یا عائلی معاملات، تنثیر و تنظیم ہو یا دعا وتعویذات کے معمولات ہر میدان میں اپنی عظمت کا لوہا منوایا ہے۔ہرجا وہرگام مقدمۃ الجیش کی حیثیت سے آمرانہ کردار ادا کیا ہے۔ علاقائی سطح پر کوئی بھی فرد آپ کا ہم پلہ نظر نہیں آتا۔
جہاں میں جب بھی کوئی اچھا کام کرتا ہے
زمانہ اس کو ادب سے سلام کرتا ہے

احوال وآثار
آپ رحمۃ اللہ علیہ کا اسم مبارک ’’محمد عین الحق‘‘اورتخلص’’شاہد‘‘ہے،شعری دنیا میں ’’شاہد نوری‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔آپ کی ولادت مبارکہ صوبۂ بہار الہند سے متصل وطن عزیز ملک نیپال کے مدھیش پردیش، ضلع سرلاہی کے صدر مقام ’’ملنگوا‘‘میں محترم صوبہ دار علی بن میاں جان علی بن گودر میاں انصاری کے گھر ۲۰۰۱؁ بکرمی مطابق ۱۹۴۴ء؁ میں ہوئی۔والدہ ماجدہ کانام کثیرہ خاتون ہے۔ پہلا نکاح حور جہاں خاتون(بریلی شریف) اوردوسرا عقد مسنون مدینہ خاتون(ملنگوا) سے فرمایا۔ پہلی زوجہ سے ۳؍فرزند رضوان انصاری ،فیضان انصاری، جاویدانصاری، ۱؍دخترعشرت خاتون اور دوسری بیوی سے ۲؍فرزند حفظان انصاری ،حسان انصاری ، ۲؍دختر عصمت خاتون اور نزہت خاتون ہیں۔ قابل فرزندان میں افتخار سیاست محترم رضوان انصاری سابق گرہ راج منتری وقومی صدر نیپال سنگھیہ سماجوادی پارٹی اور پیکراخلاص حضرت علامہ حفظان الرحمٰن ازہری ہیں۔

بیعت وخلافت
آپ نےتاجدار اہل سنت حضور مفتیٔ اعظم ہند حضرت علامہ مفتی مصطفےٰ رضا خان قادری علیہ رحمۃ الباری (بریلی شریف)کے دست حق پرست پرسلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ میں شرفِ بیعت پایا اور اسی نسبت سے اپنے نام کے ساتھ لفظ ’’نوری‘‘ کا استعمال کیا۔اجازت وخلافت قمر اہل سنت برادر تاج شریعت حضرت علامہ ڈاکٹر قمررضا خان قادری علیہ الرحمہ (بریلی شریف)وحضور تاج السنہ توصیف ملت حضرت علامہ توصیف رضا خان قادری (بریلی شریف)سے حاصل کیا۔

تعلیم وتربیت
ابتدا تا متوسطات کی تعلیم مدرسہ اسلامیہ فیض الغربا، بھانڑسر،سرلاہی(نیپال) میں حضرت علامہ مولانا صبغۃ اللہ قادری،سعدی زماں حضرت مولانا عبدالوحید نوری اور حافظ محمد جان علیہم الرحمۃ والرضوان سے حاصل کی۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے ۱۲؍سال کی عمر میں حضور مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان کے ہمراہ ۱۹۵۶ء؁ میں مرکز علم وفن دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف تشریف لے گئے اور ۲۰۲۲؁ بکرمی مطابق ۱۹۶۵ء؁ میں سند و دستار فضیلت سے نوازے گئے۔منظر اسلام میں حضور تاج الشریعہ علامہ اختررضا خان قادری ازہری کے رفیق درس تھے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کی دعوت پر حضورتاج الشریعہ علیہ الرحمہ ملنگوا کی سر زمین پر ۲؍بار تشریف لاچکے ہیں۔

تدریسی خدمات
آپ کی تدریسی خدمات کا دائرہ وسیع تر ہے۔ منظر اسلام سے فراغت کے بعدمرشد کریم تاجدار اہل سنت حضور مفتیٔ اعظم ہند قدس سرہ العزیز کے حکم پر ’’بہان پور،بریلی شریف‘‘ تشریف لے گئے۔وہاں تقریباً دس سال تعمیر ملت واصلاح امت کے حوالے سے آب زر سے لکھے جانے کے قابل کارنامے انجام دیے۔ جب آپ بہان پور کی سرزمین پر قدم رنجہ ہوئے تو اس وقت کا عالم یہ تھا کہ ہر جانب چوری ڈکیتی، بے ایمانی و کذب بیانی،جعل سازی ودھوکہ بازی، عیاشی وبدمعاشی،شراب وکباب اور نہ جانے کن کن معاصیات کا رتکاب زور و شور سے کیا جا رہا تھا،گویا وہ عیاشیوں کا اڈہ تھا۔ اس جا پر علما و ائمہ جانے سے گھبراتے تھے۔ آپ نے اس پُر خطر مقام پرمذہب اسلام کے نور سے لوگوں کا دل منور فرمایا۔گم گشتگان راہ کو راہ راست پر لایا۔ہر طرف مذہب اسلام کا پرچم لہرایا،الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کا درس دیا،سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین نمونہ پیش فرمایا، اہلیان اسلام کے سامنے مذہب اسلام کا صحیح تصور پیش فرمایا، شب دیجور میں امید وبیم کی کرنیں نمودار کیا، بہترین اخلاق وکردار اور نرم لب ولہجہ اور گفتار سے سرکش دلوں کو مسخر فرمایا۔ چوری،ڈکیتی،یرغمالی،قمار بازی،شراب نوشی،حرام کاری اور بدکاری وامثالھم سے محفوظ و مامون فرمایا۔ مسلک اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نعرہ بلند وبالافرمایا۔
آپ نے صرف بہان پور ہی نہیں بلکہ آپ نے محاورہ "چراغ تلے اندھیرا” کو مد نظر رکھتے ہوئے وطن عزیز نیپال کی کوہسار وادیوں کو یوں ہی تشنہ چھوڑا،بلکہ آپ نے اپنی گراں قدر خدمات سے اپنے علاقے کو بھی سر سبز وشاداب فرمایا۔معاصرین علما وفضلا وارباب فکرو نظر کواپنی خدا دادلیاقت و صلاحیت اور قابلیت کے ذریعے اپنی عظمت ورفعت اور قدرومنزلت کے اعترافات پر مجبور کردیا۔

نشان منزل
ہمارے بہت سارے علما نےاپنا دیش اور گھر بار چھوڑکر کئی مقامات کو اپنے وجود مسعود سے سعادت مند بنایا،اپنی انتھک کوششوں سے تعلیمی، تعمیری، تفکیری، تنظیمی، تحریکی، رفاہی، فلاحی، تنصیبی وتحسینی خدمات انجام دیے، کئی جگہوں پر علم و فضل کی شجر کاری کرکے آبیاری فرمائی مگر اس کا پھل کھانا تو دور چکھ بھی نہ سکے۔ وقت رہتے ہمیں بھی اس جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

جامعہ شاہدیہ کوثر اسلام ملنگوا کا قیام
بہان پور کے بعد مدرسہ اسلامیہ رضویہ ملنگوا،وارڈنمبر۹، سرلاہی(نیپال) میں معتقدین ومنتظمین کے اصرار پر۲۰۳۳؁ بکرمی مطابق ۱۹۷۶ء؁ میں ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے مقرر ہوئے، وہاں چند ماہ میں ہی کمیٹی کے متصادم ہونے کے سبب ملنگوا وارڈ نمبر۳،سرلاہی (نیپال) میں "جامعہ شاہدیہ کوثر اسلام” کا قیام۲۰۳۴؁ بکرمی مطابق ۱۹۷۷ء؁میں فرمایا اور وہیں تا حین حیات بانی ومہتمم کی حیثیت سے خدمت دین متین اور مسلک اعلیٰ حضرت کی تبلیغ وترویج کرتے رہے۔

مشاہیر تلامذہ
آپ کے تلامذہ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں ،مگر ان میں سےچندمشہور تلامذہ کے اسما یہ ہیں:
*نقیب اہل سنت حضرت مولانا پھول محمد نعمت رضوی برہمپوری
*مولانا مفتی نظام الدین مرکزی برہمپوری،سرلاہی(نیپال)
* مولانا حیدر حسن مصباحی حسن پور،بسبٹہ شریف،سیتامڑھی(بہار)
* مولانا بہزاد انور سندرپور،سرلاہی(نیپال)حال مقیم بنارس
* مولانا صلاح الدین مخلص اٹہروی ،سیتامڑھی
* مولانا احمد رضا برہمپوری،سرلاہی( نیپال)
*مولانا شوکت علی رضوی گلڑیا،سیتامڑھی(بہار)
* مولانا محمد اشرف القادری گلڑیا،سیتامڑھی(بہار)
* مولانا نور محمد منظری لال بندی،سرلاہی (نیپال)

جلوس محمد ﷺ کا اہتمام
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ راج شاہی کے دور ہی سے آپ نے جلوس محمدی ﷺ نکالنے کا آغاز واہتمام کردیا تھا۔ خوب دھوم دھام وتزک واحتشام کے ساتھ محسن انساینت نبی آخر الزماں حضورتا جدار مدینہ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ کا میلاد مناتے تھے، شمع فروزاں کرتے،سبز جھنڈیوں سے مذہب اسلام کا علم بلند فرماتے اور حضور ﷺ کی آمد کے ترانے گاتے۔جب تک باحیات رہے جلوس ولنگر شریف کا اہتمام کرتے رہے۔آپ کے اشارہ وایما پر صدر مقام ’’ملنگوا‘‘ میں عشاقان مصطفےٰ ﷺ کا جم غفیر ہوتا اور ’’سرکار کی آمد ۔مرحبا،دلدار کی آمد مرحبا‘‘جیسے نعروں اور درودوسلام کی صداؤںسے سارا شہر گونج جاتا تھا۔یہ آپ ہی کی دین ہے کہ ہم اور آپ سرلاہی ضلع کی پاکیزہ سرزمین پر ولادت مصطفےٰ ﷺ کے پُر بہار موقع پر خوشی منانے کے یہ بہترین طریقے اپناکر ہرسال خود کو شرفیاب وفیضیاب کرتے ہیں۔

شعری فن کاری
آپ کا مشغلہ یو ں تو درس تدریس تھا مگر ذہنی رجحان شعر وشاعر ی کی جانب مائل تھا۔آپ کا ایک شعری دیوان ’’تجلیات نوری ‘‘ کے نام سے قارئین کے مطالعۂ میزکی زینت ہے۔اور کئی شعری تصانیف لب تشنہ ہیں، ان پر نقیب اہل سنت حضرت علامہ مولانا پھول محمد نعمت رضوی نہایت جاں فشانی و عرق ریزی کے ساتھ کام کر رہے ہیں،امید قوی ہے کہ بہت جلد منظر عام پر آجائے۔آپ نے شعری اصناف کی اکثر اصناف پر طبع آزمائی کی ہے،مگر حمد ونعت میں کمال کا ملکہ حاصل تھا۔ تقدیسی شاعری کے چند اشعار زیرمطالعہ ملاحظہ فرمائیں:

حمد باری تعالیٰ
نہ یہ مجھ سے پوچھو کہ کیا چاہتا ہوں
میں عاصی ہوں عفو خطا چاہتا ہوں
نہ بہکائے شیطان دنیا میں مجھ کو
محمدﷺ کا میں نقش پا چاہتا ہوں
گناہوں کو تو بخش دے میرے مولیٰ
یہی تجھ سے ہر دم خدا چاہتا ہوں
دعا ہے ترے در پہ شاہدؔ کی یا رب
مدینے میں مرقد کی جا چاہتا ہوں

نعت رسول اکرم ﷺ
عجب کیف زا ہے بہار مدینہ
کہ خلد بریں ہے نثار مدینہ
مدینہ کے صبح ومسا اللہ اللہ
بہاروں کو حاصل بہار مدینہ
تیری شان وشوکت پہ قرباں زمانہ
ہے مکہ بھی منت گذار مدینہ
تمنا ہے شاہد ؔ کی جب موت آئے
تو آئے درِ تاج دار مدینہ

آپ کی شعری فن کاری تاجداراہل سنت حضور مفتیٔ اعظم ہند علامہ مصطفےٰ رضا خان قادری ،جانشین حضور مفتیٔ اعظم ہندحضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری،جناب ارم بریلوی،محترم راز الٰہ آبادی،حضرت تبسم عزیزی جیسی اعلیٰ شخصیات کی علمی مجالس میں ہوا کرتی تھی۔
آپ کے منثورات و منظومات ملک وبیرون ملک جیسے ہندوستان،افریقہ،امریکہ،افغانستان، انگلینڈ،مصر، بنگلہ دیش وغیرہم میں شائع ہوئے اور قارئین نے خوب خوب داد وتحسین سے نوازا۔

عامل کامل
آپ کہنہ مشق شاعر ہونے کے ساتھ مذہبی شفاخانہ کے حاذق طبیب بھی تھے۔آپ کی دعاؤ ں اور تعویذوں میں بلا کی تاثیر تھی۔جب مریض ہاسپٹلائز ہوتا اور اس پر دوا کا اثر کارگر نہیں ہوتا تو ڈاکٹر ز اپنے کمپاؤنڈروں کے ذریعے بلوا کر مریض پر دم کرواتے ،تعویذ دلواتے اور شفا کی دعا کرنے کیلئے عریضہ پیش کرتے۔

مرض دور ہوگیا
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ جناب عبدالمناف انصاری جو کہ ’’نوری جامع مسجد‘‘ برہمپوری گاؤں پالیکا،سرلاہی، (نیپال) میں مؤذن کی حیثیت سے ۲۵؍۳۰؍سالوں سے مذہب وملت کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ انھوں نے بیان کیا کہ:
’’سردی زکام نےبڑی شدت کے ساتھ زنجیر محبت میں جکڑ لیا تھا، اضطرابی حالت ہوگئی تھی، افاقہ کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ علاج ومعالجہ کیلئے کئی شہروں بیرگنج،جنک پور، سیتامڑھی،پٹنہ وغیرہ میں ماہرین معالجین کے پاس علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا۔ بالآخر مضطرب وپریشان مایوس ہوکر بیٹھ گیا۔ انھیں دنوں اپنے ایک شناسا وہمنوا سے ملاقات ہوئی ۔ سلام وکلام کے بعد گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا۔ میان گفتگو اپنی غمگین حالت کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہاکہ ملنگوا میں ڈاکٹر گنادھر جھا مشہور ومقبول ڈاکٹر ہیں،ان کے پاس چیک اپ کروائیں۔ امید ہے وہاں کوئی شفایابی کی صورت نکل آئے۔ بس کیا تھا ’’لاتقنطوا من رحمۃ اللہ‘‘ کو یاس وامید کا سہارا بناکر درد کا مداوا تلاش کرنے کیلئے ڈاکٹر گنا دھر جھاکے کلینک میں جا پہنچا۔نمناک آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں کے ساتھ ان سے اپنی اضطرابی حالات وکیفیات کا تذکرہ کیا۔ ساری باتوں کے سننے کے بعد انھوں نے کچھ ساعت آرام کرنے کیلئے کہا۔ حسب وعدہ انھوں نے مجھے دوبارہ بلوالیا۔ جب میںاندر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور شاہد ملت علیہ الرحمہ تشریف فرما ہیں۔ ڈاکٹر گنادھر جھا دوا نکال نکال کر حضرت سے دم کروارہے ہیں اور مریضوں کو دے رہے ہیں۔ اسی طرح میری بھی دواؤں پر دم کروایا اور مجھے دے دیا۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور چپی توڑتے ہوئے ڈاکٹر موصوف سے کہا یہ کیا ماجرا ہے؟ ڈاکٹر گنادھر جھانے کہا محترم آپ جیسے لادوا ولاعلاج مریضوں کیلئے حضرت سے دم کروا کر دیتا ہوں۔ حضرت کی زبان میں اللہ رب العزت جل وعلا نے اس قدر تاثیر رکھی ہے کہ جس دوا پر دم کرکےمریض کو دے دیتے ہیں ،وہ دوا اس قدر پُر تاثیر ہوجاتی ہے کہ مریض کو فوری طور پر شفا حاصل ہوجاتی ہے۔ میں شاداں وفرحاں حضرت کی دم کردہ دوا لے کر گھر آگیا۔ دو تین ایام ہی گزرے تھے کہ طبیعت بحال ہوگئی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے شفاعطا کردی اور ایسی شفا حاصل ہوئی کہ پھر دوبارہ اس مرض کی شکایت نہ ہوئی۔
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

پیغام انسانیت
متذکرہ بالاواقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماضی قریب میں ملک نیپال کس خوشگوار ماحول میں امن وآشتی اور تہذیب وتمدن کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ ہندو ہو کہ مسلم، سکھ ہو کہ عیسائی، بدھسٹ ہو کہ کِراتی،جینزم ہو کہ بہائی کسی کو بھی کسی فردسے جان ومال کا خطرہ نہیں تھا۔ ہرایک کو دوسرے پر خود سے زیادہ اعتماد ہوتا تھا۔شیر وشکر ہوکر باہم رہنا سارے ممالک کیلئے بہترین نمونہ تھا۔انسانیت کی صحیح تصویر اس وقت جھلکتی تھی کہ انسانیت کیا ہے،؟ فی زماننا اس بات کا فقدان نظر آتا ہے۔مگر ابھی بھی اپنی پرانی تہذیب لائی جاسکتی ہے، بشرطے کہ ہم سب ایک ہوجائیں۔حضور شاہد ملت علیہ الرحمہ اور ڈاکٹر گنادھر جھا کادنیاوی معاملات میں ایک ساتھ رہنا ہمارے لئےانسانیت کا بہترین نمونہ ہے۔
بستی میں اپنی ہندو مسلماں جو بس گئے
انساں کی شکل دیکھنے کو ہم ترس گئے

وصال پُر ملال
بڑے دردو کرب اور رنج وقلق کے ساتھ یہ لکھنے کی ہمت وجسارت کررہاہوں کہ:اس خاکدان گیتی پر ہر دن ہزاروں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، نہ ان کا آنا کوئی خوشی کی بات اور نہ جانا کوئی بڑا صدمہ شمار،مگر انھیں بندگان خدا میں سے کوئی فرد ایسا ہوتا ہے جس کے آنے سے ان گنت لوگوں کو خوشی ہوتی ہے اور جانے پر بے شمار آنکھیں نمناک واشک بار رہتی ہیں۔
آہ! مذہب اسلام کا عظیم داعی، مسلک اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کا بہادر سپاہی، انسانیت کا مجسمہ ،حسن اخلاق کا اعلیٰ نمونہ، ،شعر وسخن کا روشن ستارہ،متعددخوبیوں کا مالک،گوناگوں صفات وخصوصیات کا حامل ،علم وفضل کا کھلتا ہوا تازہ گلاب شاہد ملت حضرت مفتی عین الحق علیہ الرحمۃ الرب اپنی تمام ترعطر بیزیوں، سر سبزیوں، شادابیوں،ضیا پاشیوں، ضوفشانیوں، دلکشی رعنائیوں، رنگینی توانائیوں ،شبنمی لہروں کے جھونکوںاور جلوہ سامانیوں کے ساتھ ۱۶؍گتے اگہن ۲۰۶۳؁ بکرمی مطابق ۲؍دسمبر ۲۰۰۶ء؁بروز سنیچر ۶۲؍سالہ عمر پاکر بیر گنج اسپتال مےں مرجھا کر خلد آشیاں ہوگیا۔(انا للہ وانا الیہ راجعون)

ابر رحمت ان کی مرقد پر گہر باری کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

مزار پُرانوار
آپ کے جنازۂ مبارک میں دور ونزدیک سےآئے ہوئے عشاق کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا مجمع تھا۔آپ کامزار پُر انوار جامعہ شاہدیہ کوثر اسلام ملنگوا،وارڈ نمبر،سرلاہی(نیپال) کے صحن میں دکھنی جانب مرجع خلائق ہے۔

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

گنبد اعلیٰ حضرت

حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم: فیضان رضا علیمی

یوں تو حضور جیلانی میاں علیہ الرحمہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری نے بسم اللہ خوانی کے وقت ہی جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما دی تھی اور آپ کے والد ماجد نے بھی ۱۹ سال کی عمر شریف میں ہی اپنی خلافت اور بزرگوں کی عنایتوں کو آپ کے حوالہ کر دیا تھا لیکن باضابطہ تحریر ی خلافت و اجازت ، نیابت و جانشینی اور اپنی ساری نعمتیں علامہ حامد رضا خان قادری نے اپنی وفات سے ڈھائی ماہ قبلہ ۲۵۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: