یوگا ورزش ہے یا کچھ اور؟

یوگا ورزش ہے یا کچھ اور؟

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی


اکیس جون کو عالمی یوگا ڈے(Yoga Day) منایا گیا۔اس بار سرکاری مدارس میں بھی یوگا کی مشقیں خوب کی گئیں جس پر مذہبی طبقے میں کافی چہ می گوئیاں ہوئیں اور اس پر دو الگ الگ رائیں سامنے آئیں۔بعض حضرات کے نزدیک یوگا صرف ایک کسرت اور جسمانی ورزش کا نام ہے جس کا کسی مذہب یا مذہبی رسومات سے کوئی لینا دینا نہیں جب کہ دوسرے حضرات کا ماننا یہ ہے کہ یوگا ایک ہندوانہ رسم اور شرکیہ ثقافت کا حصہ ہے جس سے پرہیز ضروری ہے۔اس سلسلے میں ہم نے بھی یوگا کو جاننے سمجھنے کی تھوڑی بہت کوشش کی، حالیہ تحریر اسی کا خلاصہ اور لب لباب ہے۔

____یوگا کسے کہتے ہیں؟

ہندو مصنفین کے مطابق یوگا سنسکرت کے لفظ یُج(:युज) سے بنا ہے، جسے ہندی میں یوگ اور انگریزی میں یوگا کہتے ہیں۔جس کا لغوی معنی جوڑنا ہے، پنڈت مدن موہن جھا نے لکھا ہے:
"یوگا کا لغوی مطلب جوڑنا ہے جب کہ اصطلاح میں وہ طریقہ ہے جس میں آتما(روح) کو پرماتما سے جوڑا جاتا ہے۔(ہندی شبد کوش)

ویدانتی فلسفے کے مطابق انسان اور پرماتما کے ملن کا نام ہی یوگ ہے۔
اسکندھ پران(स्कंध पुराण) کے مطابق کے جِیو آتما(روح) اور پرماتما کا الگ الگ ہونا ہی تکلیفوں کا سبب ہے۔ان کا ایک ہوجانا ہی یوگ ہے۔
لنگ پران(लिंग पुराण) کے مطابق ذہن کی سبھی عادتوں کو ختم کر دینا ہی یوگ ہے۔
کٹھوپ نِشد( कठोपनिषद) کے مطابق جب حواس خمسہ دل کے ساتھ قرار پاجاتے ہیں تو دل دماغ کے ساتھ جا ملتا ہے، اسی حالت کو یوگ کہتے ہیں۔پھر اس میں اچھے سنسکار (اچھی تہذیب) آنے لگتی ہے اور برے سَنسکار ختم ہونے لگتے ہیں۔
یوگی رام چَرَک(राम चरक) کے مطابق ہم سبھی لامحدو طاقت کے مالک ہیں اور اس طاقت کے رازوں سے شناسائی یوگ میں پوشیدہ ہے۔
(یوگ ایوم آیروید ص 2،3 اتراکھنڈ مکت وشوادھالیہ)

ان حوالہ جات سے ثابت ہوجاتا ہے کہ یوگا صرف ایک کسرت نہیں بل کہ خاص مذہبی عمل کا نام ہے، ہاں اس مذہبی عمل میں کچھ پوزیشن ایسی ہیں جو ورزش جیسی ہیں۔اس لیے جو لوگ اسے صرف کسرت/ریاضت بدنیہ اور ورزش ہی سمجھ رہے ہیں وہ شاید اس کے پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔

یوگا کی عالمی پہچان____

یوں تو یوگا ہندو سماج میں صدیوں سے رائج ہے۔بھارت کے رشی مُنی اور جوگی صدیوں سے جنگلوں، پہاڑوں اور آشرموں میں یوگا کی تعلیم وتربیت دیتے رہے ہیں لیکن اس عمل کو عالمی پہچان بی جے پی نے دلائی۔مئی 2014 میں بی جے پی کی حکومت بنی اور 11 دسمبر 2014 کو یوگا کو اقوام متحدہ میں منظوری مل گئی۔اکیس جون کو عالمی یوگا ڈے کے طور پر منایا جانا منظور ہوا۔پہلی بار اکیس جون 2015 کو عالمی یوگا ڈے منایا گیا۔اس کے بعد سے ہر سال یہ دن عالمی پیمانے پر منایا جاتا ہے۔
جو لوگ اسے صرف کسرت یا ورزش مانتے ہیں،وہ غور کریں کہ صرف کسرت وورزش کو عالمی پہچان دلانے کے لیے بی جے پی کو محنت کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیا بھارت کے علاوہ دنیا میں کہیں بھی کسرت اور ورزش کا تصور نہیں ہے؟
پوری دنیا میں صحت وتندرستی کے حوالے سے بڑی بیداری پائی جاتی ہے۔یوروپ ہو یا خطہ عرب، افریقہ ہو کہ ایشیائی ممالک ہر جگہ صحت وتندرستی کے ہزارہا طریقے رائج ہیں۔اہل چین وجاپان کے کراٹے اور افریقی باشندوں کی جسمانی قوت کس سے پوشیدہ ہے۔عربوں کی قابل رشک صحت اور یورپین باشندوں کی صحت سے متعلق سنجیدگی سے دنیا واقف ہے، ایسے میں بھاجپا کو بھاگ دوڑ کی کیا پڑی تھی؟ اصل میں یہ صرف ورزش ہے ہی نہیں یہ ہندو روایات کا اہم حصہ ہے۔اسی لیے بی جے پی اس ہندو روایت کو عالمی پہچان دلانا چاہتی تھی۔اگر یہ صرف کسرت ہوتی تو کسرت کے لیے ہندی میں وِیَایَام(व्यायाम) کا لفظ آتا ہے، اسے استعمال کیا جاتا، یوگا نہیں۔یوگا ان کے یہاں کتنا محترم لفظ ہے اس کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں کہ ہندو سماج میں یوگا کرنے والے ہر شخص کو یوگی نہیں کہا جاتا بل کہ جو شخص یوگ کو علی وجہ الکمال اختیار کرتا ہے اسے ہی یوگی کا خطاب دیا جاتا ہے۔اگر یہ صرف کسرت و ورزش ہوتی تو ہر کسرت کرنے والے کو یوگی کہا جاتا مگر ایسا نہیں ہے۔
یوگا میں اصولی طور پر صرف وہی آسن استعمال کیے جاتے ہیں جو رشی مُنیوں سے منقول اور دیوتاؤں سے منسوب ہیں۔چند آسنوں کی تفصیل یہ ہے:
🔸یوگا کی شروعات سوریہ نمسکار آسن سے ہوتی ہے جس میں انسان بائیں ٹانگ پر کھڑا ہوتا ہے اور دائیں ٹانگ موڑ کر بائیں گھٹنے پر رکھتا ہے۔سر سیدھا اور دونوں ہاتھوں کو نمسکار کے انداز میں جوڑ کر آسمان کی جانب بلند کیا جاتا ہے۔
🔹نٹ راج آسن: اسے ہندو دیوتا شِو کی وجہ سے شِو آسن بھی کہا جاتا ہے۔اس میں بائیں پیر پر کھڑا ہوکر داہنا پیر پیچھے کی جانب لیجاتے ہیں اور داہنے ہاتھ سے اسے پکڑ کر آگے کی جانب جھکتے ہیں۔
🔸شو آسن کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان آلتی پالتی بیٹھتا ہے اور اپنے دونوں پاؤں کے تلوے جانگھوں کی طرف نکال لیتا ہے۔
🔹پدماسن؛ اس آسن میں آرام سے بیٹھ کر ناک پر انگلی رکھ کر آہستہ آہستہ سانس لی اور چھوڑی جاتی اور اس درمیان اوم کا جاپ کیا جاتا ہے۔

آسنوں کی مختصر تفصیل سے بھی یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یوگا صرف ورزش نہیں ہندو ثقافت اور ان کی تہذیبی روایت ہے۔ورنہ ورزش میں تو کوئی بھی مفید طریقہ شامل ہوسکتا ہے۔پھر بھی جو لوگ اسے صرف ورزش ماننے کی ضد پر ہیں انہیں رَشمی پٹیل نامی ہندو اسکالر کا یہ اقتباس پڑھنا چاہیے:
"اگر آپ کو لگتا ہے کہ یوگا کا مطلب صرف جسم کو الگ الگ طریقے سے موڑنا ہے تو پھر وقت آگیا ہے کہ آپ اپنے نظریے پر پھر سے غور کریں یوگا صرف چند پوزیشنوں تک محدود نہیں ہے بل کہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔”
(یوگ کیا ہے، از رشمی پٹیل Leverageedu. com)

اکابر علما سے گزارش_____

حکومت کی حالیہ پالیسیاں اور نطریاتی ایجنڈا کسی سے چھپا نہیں ہے۔یوگا کا مسئلہ نیا نہیں ہے اس سے پہلے جن گن من کا مسئلہ تھا، اگر کل عزیمت سے کام لیا گیا ہوتا تو شاید آج بات یہاں تک نہ پہنچتی۔کوئی خواب خرگوش میں نہ رہے کہ بات صرف یوگا تک ہی رک جائے گی آگے سرس وتی وَندنا، ہولی ،دیوالی، مہا بھارت اور رام کتھا کے ترغیبی واقعات پر संगोष्ठी اور سیمینار کا حکم بھی جاری ہو سکتا ہے۔اس لیے سنجیدگی، حکمت اور غیرت ایمانی کے ساتھ شرعی سیمینار بلائیں۔موجودہ اور آئندہ آنے والے مسائل کے متعلق شرعی خطوط متعین کرکے متفقہ فیصلہ لیں تاکہ سرکاری مدارس کے ساتھ ساتھ پرائی ویٹ مدارس اور عام مسلمان بھی بغیر شش وپنج کے خود کو ابتلا و آزمائش سے بچا سکیں۔ابھی بھی بہت سارے علما ناواقف ہیں، یا ناواقف دکھنے کی کوشش میں ہیں۔کیوں کہ ابھی تک جماعتی سطح پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے اس لیے ابھی سب کچھ جس کی جیسی مرضی مطابق چل رہا ہے۔اگر حالیہ معاملے کو یوں ہی چھوڑ دیا گیا یا ورزش کی چند پوزیشن اور کفریہ شرکیہ منتروں کے ترک کے ساتھ قبول کر لیا گیا تو کل کو یہ مطالبہ ہولی کے رنگ، دیوالی کے چراغ اور رکھشا بندھن کی راکھی اپنانے تک بھی پہنچے گا، آپ کفریہ شرکیہ کلمات کی بنیاد پر منع کریں گے تو کہہ دیا جائے گا آپ آیت قرآنی صِبۡغَۃَ اللّٰہِ ۚ وَ مَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبۡغَۃً پڑھ کر رنگ لگائیں، اندھیرا دور کرنے کی نیت سے دیوالی پر چراغ جلائیں اور حفاظت کی نیت کے ساتھ لڑکی سے راکھی بندھوائیں۔

ذرا سوچیں!
اس وقت ہمارے پاس بچاؤ کا کیا راستہ ہوگا؟ کیوں کہ اس وقت بھی جواز کی دلیل وہی رہے گی جو آج یوگا کے لیے استعمال کی جارہی ہے۔اس لیے جو علما یوگا کے پس منظر سے ناواقف ہیں وہ معلومات حاصل کریں اور مفتیان کرام اس پر شرعی تقاضوں کے مطابق حکم شرع بیان کریں تاکہ مدارس کا وقار بھی سلامت رہے اور اہل ایمان بھی تہذیبی ارتداد کے فتنے سے محفوظ رہیں۔

٤ ذوالحجہ ١٤٤٤ھ
23 جون 2023 بروز جمعہ

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

معاشرہ

معاشرے کی بربادی کے اسباب و عوامل 

معاشرے کی بربادی کے اسباب و عوامل  از۔محمد قمرانجم قادری فیضی ایڈیٹر مجلہ جام میر …

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: