فاضل بریلوی کی محیرالعقول شعری جہات

فاضل بریلوی کی محیرالعقول شعری جہات
مشتاق نوری

اردو شاعری میں جن شخصیات سے میں حد درجہ متاثر ہوں وہ ہیں علامہ اقبال اور فاضل بریلوی۔۔۔اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ انہوں نے خود کو کسی لیلی‌‌‌ یا شیریں کے نین نقش، لب و رخسار، کاکل شب آشنا و گردن صراحی نما کی تصویر کشی میں گم نہیں کیا۔بلکہ ایک نے اپنی شاعری سے قوم کے مردہ جسم میں قیسانہ طور پر جان ڈالنے کی تحریک چلائی تو دوسری نے مسلمانوں کے قالب مظلم میں عشق سرمدی کی شعاعیں بکھیرنے کے لئے فرحادانہ تیشہ بکف، اندھیروں سے لڑائی لی۔ اگر انہیں حلقۂ ادب سے "ادیب زمانہ” یا "استاذ سخن” کے ‘تمغہء افتخار’کی چنداں فکر ہوتی یا نقادان ادب سے داد وصول کرنا ہوتی تو غزل و مدیح کی جھری کی جھری لگا دیتے۔
کہتے ہیں کہ عقیدت پر حقیقت کا رنگ چڑھا ہو تو زہے نصیب!اگر عقیدت نے حقیقت کو ڈھانپ لیا ہو تو وہاں سے اندھی تقلید شروع ہو جاتی ہے۔اگر کوئی کہےکہ علامہ اقبال کو ہم عقیدت کی بنیاد پر "شاعر مشرق” مانتے ہیں۔تو عقیدت کے اس بے رحم تصور نے ان کے فلک پیما شاعرانہ کمال کو یکلخت زمیں بوس کردیا۔ ایسی بے جا عقیدت کے بوجھ تلے اکثر ممدوح کا فنکارانہ کمال دب کے رہ جاتا ہے۔اور یہ کسی بھی شاعر و ادیب کے ساتھ نا انصافی کے مترادف عمل ہے ۔قسمت سے میں ان افراد میں شامل ہوں جو کسی بزرگ سے ان کی موروثی عظمت یا پدرانہ شان و شوکت سے مرعوب ہو کر عقیدت نہیں رکھتے بلکہ انہیں حقیقت کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
فاضل بریلوی کی علمی شخصیت کو مجروح کرنے کی جو تحریک اغیار نے چلائی،بد قسمتی سے ہماری جماعت کے کچھ افراد بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس میں شامل ہوگئے۔اور آج نوبت ایں جا رسید کہ گاہے گاہے ان کی عظمت کے خلاف مورچہ بندی کرنا ایک رسم بنتا جارہا ہے۔۔تحقیق و ایجاد اور لفظ صناعی و مفہوم سازی کےاس ہوشربا ماحول میں اتنا تو طے ہے کہ اردو ادب میں بھی فاضل بریلوی کی عبقریت کو سمجھنا کسی ‘بندھے ٹکے ادیب’ یا کسی رومانیت انگیز،اخلاق کش غزل کے رسیا ادیب کے بس کا روگ نہیں۔
اردو ادب کے بلند پایا شاعر اطہر ہاپوری نے ایک نعت لکھ کر اعلی حضرت کے پاس بھیجی۔جس کا مطلع تھا
کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے
مجنوں کھڑے ہیں خیمۂ لیلی کے سامنے
اس سے آپ کے مزاج عشق و موقف آداب کو دھچکا لگا آپ نے برجستہ شعر کی اصلاح فرمائی۔کہ آقا جان رحمت کے مزار مقدس کو خیمۂ لیلی سے تشبیہ دینا ایک قسم کا بڑا نقص ہے۔جو کسی بھی عاشق کو زیب نہیں دیتا۔آپ نے دوسرے مصرعے کو بدل کر اس طرح کر دیا۔
کب ہیں درخت حضرت والا کے سامنے
قدسی کھڑے ہیں عرش معلی کے سامنے
نعتیہ صنف کے حوالے سے عارض شعر وادب پر یہ جو چار چاند لگے ہیں اس کا سہرا آپ کے فنکارانہ کمال کو بھی جاتا ہے۔یہ حقیقت کا برملا اعتراف ہے کہ محاورات؛ضرب الامثال،استعارے اور صنائع و بدائع کا بر محل استعمال جس طرح آپ کی سخندانی سے وابستہ ہے وہ نعتیہ صنف کے کسی بھی شاعر کے "دیوان دفتر” میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ آج اعلیحضرت کو استاذ سخن ماننے سے اگر کسی کی ‘رگ فکر’ پھڑکنے لگتی ہے تو کیوں؟ ان کا قصور تو صرف اتنا ہے کہ انہوں نے نعت سے ہٹ کر کبھی ‘لیلائے غزل’ کی زلف برہم میں چھپنے کی کوشش نہیں کی۔اگر یہ اتنا بڑا جرم ہے تو جرم ہی سہی! لیکن اتنا تو طے ہے کہ تاریخ اگر منصف مزاج ہے تو کبھی بھی آپ کی ادبی کاوشات، قلمی رشحات، شعری محاکات اور فنی اختراعات سے نظریں بچاکر آگے نہیں بڑھ سکتی۔
میں نے اپنے شعبۂ عربی(پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ)کے لکچرار ڈاکٹر سرور عالم ندوی(جو ایک آزاد خیال تنقید نگار بھی ہیں۔اردو وعربی پر یکساں پکڑ رکھتے ہیں ) کو اعلیحضرت کا عربی قصیدہ "قصیدتان رائعتان” دکھایا۔۔۔مطالعہ کرنے کے بعد ان کی ریمارک کچھ اس طرح تھی۔
"اس عربی شاعری کی اتنی برمحل روانی سے لگتا ہے کسی ہندی کا نہیں، بلکہ کسی عربی شاعر کا کلام ہے” اس تناظر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ آج جو بھی رضا کی ‘عبقریت مخالف مشن’ کا حصہ ہے وہ عقل و شعور کے مغلق دروازے وا کرے اور عصبیت و عناد اور گروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچے کہ جب فاضل بریلوی کو عربی شاعری پر اتنا عبور حاصل ہے تو اردو تو ان کے گھر کی زبان ہے۔
علامہ عبدالحکیم شرف قادری (پاکستان) نے فتاوی رضویہ کی تقریظ میں جن چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ باصرہ نواز بھی ہے اور بصیرت افروز بھی ۔ وہ رقمطراز ہیں۔ جامع ازہر مصر کے شعبہ اردو و عربی کے پروفیسر ڈاکٹر محی الدین الوائی اپنی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جس شخص کا سارا وقت علمی موشگافی اور فقہی تحقیق میں گزرتا ہے وہ اس طرح کی ادبی شاعری بھی کرسکتا ہے!
آگے ڈاکٹر موصوف اپنے استعجابی دعوے کی دلیل میں متنبی(یہ وہی متنبی ہے جس کو عربی شاعری میں وہی اعتبار حاصل ہے جو اردو شاعری میں میر و غالب، داغ و سودا کو حاصل ہے) کے ایک شعر سے موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
ازورھم و سواداللیل یشفع لی
وانثنی وبیاض الصبح یغری لی
(ترجمہ ۔۔۔میں اس حال میں محبوبوں کی زیارت کرتا ہوں کہ رات کی سیاہی میری سفارش کرتی ہے۔اور ان سے مل کر اس حال میں لوٹتا ہوں کہ صبح کی سپیدی میرے خلاف برانگیختہ کرتی ہے)
اس شعر کو ایڈ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ شعر متنبی کے "اشعار کا امیر” ہے کیونکہ اس کے پہلے مصرع میں جس طرح پانچ چیزوں( ۱۔زیارت ۲۔سیاہی ۳۔ رات۔۴۔سفارش ۵۔ میرے حق میں ) کا ذکر ہے اسی ترتیب سے دوسرے مصرع میں بھی پانچ چیزوں( ۔۱۔واپسی ۲۔سپیدی ۳۔صبح ۴۔برانگیختگی ۵۔میرے خلاف) کا ذکر ہے۔
اس کے مقابلے میں فاضل بریلوی کا ایک شعر پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر الوائی صاحب کہتے ہیں کہ "معنوی بلندی اور پاکیزگی کے ساتھ شاعرانہ نقطہ نظر سے فاضل بریلوی کا شعر کتنا اہم ہے۔ کہ پہلے مصرع میں بجائے پانچ چیزوں کے، چھ چیزوں کا ذکر کیا ہے۔پھر اسی ترتیب سے دوسرے مصرع میں بھی چھ چیزوں کو لایا ہے۔اور لطف یہ ہے کہ یہ غزل نہیں،نعت ہےجہاں قدم قدم پر احتیاط لازم ہے”
حسن یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشت زناں
سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عرب
مصرع اول۔۔۱ ۔حسن ۲۔انگشت ۔۳۔کٹیں۔ایک غیر اختیاری عمل۔۴۔عورتیں ۔۵۔مصر۔۶ ۔کٹنے کا عمل صرف ایک بار۔۔۔
مصرع ثانی۔۔۔۱۔نام۔۲۔سر۔۳۔کٹاتے ہیں ۔ایک اختیاری عمل۔۴۔مرد۔۵۔عرب۔۶۔کٹنے کے عمل بالاستمرار ہے۔
آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے؟ اگر انصاف کو عصبیت کا روگ نہیں لگا ہے تو پوچھیں کہ فاضل بریلوی کو کس جرم میں "محض نعت گو شاعر” کہ کر ان کی شاعرانہ صوابدید سے چشم پوشی برتی جاتی ہے؟ان کی محیرالعقول شعری جہات سے اہل نقد کا ایک بڑا طبقہ کس دباؤ میں کس مخالف مہم کے زیر اثر نظر چرا کر گزر جانے کو فن و ادب کی خدمت تصور کرتا ہے؟
مشتاق نوری
۱۲؍اکتوبر ۲۰۲۰

الرضا نیٹورک کا اینڈرائید ایپ (Android App) پلے اسٹور پر بھی دستیاب !

الرضا نیٹورک کا موبائل ایپ کوگوگل پلے اسٹورسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کے لیے      یہاں پر کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا فیس بک پیج  لائک کرنے کے لیے       یہاں کلک کریں۔
الرضا نیٹورک کا ٹیلی گرام گروپ جوائن کرنے کے لیے یہاں پر کلک کریں
الرضانیٹورک کا انسٹا گرام پیج فالوکرنے کے لیے  یہاں کلک کریں


مزید پڑھیں:
  • Posts not found

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

گنبد اعلیٰ حضرت

حضور مفسر اعظم ہند بحیثیت مہتمم: فیضان رضا علیمی

یوں تو حضور جیلانی میاں علیہ الرحمہ کو اعلی حضرت امام احمد رضا خان قادری نے بسم اللہ خوانی کے وقت ہی جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما دی تھی اور آپ کے والد ماجد نے بھی ۱۹ سال کی عمر شریف میں ہی اپنی خلافت اور بزرگوں کی عنایتوں کو آپ کے حوالہ کر دیا تھا لیکن باضابطہ تحریر ی خلافت و اجازت ، نیابت و جانشینی اور اپنی ساری نعمتیں علامہ حامد رضا خان قادری نے اپنی وفات سے ڈھائی ماہ قبلہ ۲۵۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: