لاعلمی کا اعتراف بھی ایک علم ہے: مفتی نفیس احمد مصباحی

لاعلمی کا اعتراف بھی ایک علم ہے

مفتی نفیس احمد مصباحی
استاذ : جامعہ اشرفیہ مبارکپور اعظم گڑھ (یوپی)

ہمارا مذہب علم ومعرفت کی شمع روشن کر کے جہالت کے اندھیرے دور بھگانے کی دعوت دیتا ہے، وہ اپنے ماننے والوں پر علم حاصل کر نا فرض قرار دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے:طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (۱)علم کی تلاش وجستجو ہر مسلمان پر فرض ہے۔اسی لیے وہ علم والوں اور بے علموں کو ایک درجے میں رکھنے کا قائل نہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ھل یستوی الذی ین یعلمون والذین لا یعلمون (الزم۳۹ ، آیت ۹)کیا علم والے اور بے علم برابر ہیں۔ یعنی دونوں ہر گز برابر نہیں ہوسکے۔اس مذہب مہذب میں عالم کو غیر عالم پر کھلی ہوئی فضیلت اور برتری حاصل ہے، پیغمبر اسلام ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:ان فضل العالم علی العابد کفضل القمر لیلۃ البدر علیٰ سائر الکواکب ۔ (۲) یقینا عالم کو عابد پر وہی فضیلت وبر تری حاصل ہے جو چود ہویں رات کے چاند کو تمام ستاروں پر۔حضرت ابو اُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی بارگاہ میں دو آدمیوں کا ذکر ہوا: ایک عبادت گزار، اور دوسراعالم ، تو سرکار اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم (۳)عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے آدمی پر ۔
ہمارے مذہب میں علم کی تلاوت وجستجو اور اس کو حاصل کرنے کا یہ مقام ہے کہ جو طلب علم کے لیے سفر کرے وہ جنت کے راستے پر چلنے والا قرار پاتا ہے۔ حضرت ابو الادرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سرکار اقدس ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے:من سلک طریقاً یطلب فیہ علماً سلک اللہ بہ طریقاً من طرق الجنۃ(۴)جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت کے راستوں میں سے کس راستے پر چلا ئے گا۔مذہب اسلام ممیں علم کی یہ اہمیت ہے کہ رات میں تھوڑی دیر علمی مذاکرہ کرنا، اسے پڑھنا پڑھانا پوری رات نفلی عبادت کرنے سے بہتر ہے، حبر امت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائھا(۵)رات میں تھوڑی دیر علم کا پڑھنا پڑھانا پوری رات (نفلی) عبادت کر نے سے بہتر ہے۔
دوسری طرف ہمارے لیے یہ حکم بھی ہے کہ ہم پوری محنت اور کوشش سے علم حاصل کر نے کے باوجود اپنے اندر ’’ ہمہ دانی‘‘ کا احساس ہر گز پیدا نہ ہو نے دیں ، اور اپنے ذہن ودماغ میں ہر وقت یہ خیال بسائے رکھیں کہ ہمارا علم خواہ کتنا بھی ہو وہ قلیل اور تھوڑا ہی ہے، مکمل اور پورا ہر گز نہیں قرآن کریم میں ہے:’’وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً‘‘(الاسراء ۱۷ ،آیت ۸۵)اور تمہیں تھوڑا ہی علم دیا گیا ہے۔اس ربانی ارشاد کو سننے کے بعد کسی بھی بندۂ مومن کے ذہن میں یہ خیال ہر گز نہیں آسکتا کہ میں سب کچھ جانتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ بغیر لعم کے کوئی بات بتانا ہمارے مذہب میں سنگین جرم اور گناہ کا کام ہے اور اگر اس بات کا تعلق قرآن کریم اور حدیث نبوی سے ہو تو اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’من قال فی القرآن برأیہ فلیسبوأ مقعدہ من لانار ۔ وفی روایۃ: من قال فی القرآن بغیر علم فلیتبوأ مقعدہ من النار۔ رواہ الترمذی (۶)‘‘روایت میں یوں ہے: جو شخص قرآن میں بغیر لعم کے کچھ کہے اسے اپنا ٹھکانا جہنم سمجھنا چاہئے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:’’ اتقوا الحدیث عنی الا ما علمتم فمن کذب علی امتعمدًا فلیتبوأ مقعدہ من النار ‘‘ راہ لترمذی (۷)میری حدیث روایت کرنے سے بچو، سوائے ان حدیثوں کے جن کا تمہیں علم ہے کہ جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔بلکہ جو شخص بغیر علم کے اپنے اندازہ سے کوئی بات بتائے اور اتفاقاً وہ بات صحیح بھی ثابت ہو جائے تب بھی ہمارا مذہب اسے مجرم اور خطا کار قرار دیتا ہے، کیوں کہ اس نے شریعت کے حکم کی خلاف ورزی کی۔حضرت جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے:’’من قال فی القرآن برایۃ فاصاب فقد اخطأ‘‘رواہ الترمذی وأبودائود ۔(۸)جس شخص نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ بیان کیا اور وہ صحیح نکلا تب بھی اس نے غلط کام کیا۔بلکہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ بےعلم کے فتویٰ دیںگے ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث بخاری ومسلم میں موجود ہے:’’ان اللہ لا یقبض العلم انتزا عاینتزعہ من العباد ، ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذا لم یبق عالماً اتخ الناس رئو و ساً جھالافسئلوا فافتوابغیر علم فصلّوا وأ ضلوا،، متفق علیہ ‘‘(۹)بے شک اللہ تعالیٰ اس طرح علم نہ اُٹھائے گا کہ اسے بندوں سے کھینچ لے، بلکہ علما کو اُٹھاکر اسے اُٹھائےگا، یہاں تک کہ جب (زمین پر) کسی علم کو باقی نہ چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیںگے تو وہ جاہل بغیر علم کے فتویٰ دیں گے تو خود گمراہ ہوں گے اور (دوسروں کو بھی ) گمراہ کریںگے۔
اس حدیث کی تشریح کر تے ہوئے حضرت مفتی احمد یار خاں نعیمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:’’پیشوا سے مراد قاضی، مفتی ، امام اور شیخ ہیں جن کے ذمہ دینی کام ہوتے ہیں، مقصد یہ ہے کہ دینی عہدے جاہل سنبھال لیںگے، اور وہ اپنی جہالت کا اظہار ناپسند کریںگے، مسئلہ پوچھنے پر یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں خبر نہیں، بلکہ بغیرعلم کے من گڑھت غلط مسئلے بتائیںگے، اس کا انجام ظاہر ہے بے علم طبیب مریض کی جان لیتا ہے، اور جاہل مفتی اور خطیب ایمان برباد کرتے ہیں۔ ‘‘(۱۰)اوپر کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوگئی کہ کسی کو تمام چیزوں کا علم نہیں، اور جن باتوں کا صحیح علم نہ ہو تو ان کے بارے میں صرف اندازہ سے کسی کو کچھ نہیں بتانا چاہیے ، بلکہ اس کے لیے حکم یہ ہے کہ ’’ہمہ دانی‘‘ کا خیال اپنے ذہن ودماغ سے نکال کر سائل کے سامنے صاف لفظوں میں اپنی بے علمی کا اعتراف کرلے، اسی لیے کہا گیا ہے کہ ’’لاأ دری نصف العلم ‘‘اپنی لاعلمی کا عتراف بھی آدھاعلم ہے۔مشہور صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’یٰاأ یھا الناس ، من علم شیئا فلیقل بہ، ومن لم یعلم فلیقل : اللہ أعلم : فان من العلم أن تقول لما لا تعلم : اللہ اعم ‘‘۔ (۱۱)لوگو! جو شخص کسی چیز کو جانتا ہو تو اسے بیان کردے، اور جو نہ جانتا ہو وہ کہے: اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے (مجھے اس کی جان کا ری نہیں)کیوں کہ یہ بھی ایک طرح کا جانتا ہی ہے کہ تم جس بات کو نہیں جانتے اس کے بارے میں (صاف) کہہ دو کہ اللہ خوب جانتاہے۔
اسلاف کرام کی مقدس زندگی پر ایک نظر:
ہمارے مقدس اسلاف، اسلام کی اس پاکیزہ تعلیم پر پوری طرح عامل تھے، اسی لیے جب بھی ان کی بارگاہ میں کسی ایسی چیز سے متعلق سوال ہو ا جس کے بارے میں انہیں صحیح جان کاری نہیں تھی تو انہوں نے کسی تکلف اور تصنع سے کام نہ لیا، بلکہ اپنی حیثیت عرفی کی پرواہ کیے بغیر پوری وضاحت اور صفائی کے ساتھ اپنی لاعلمی کا اعتراف کر لیا۔ذیل میں چند اسلاف کرام کی مبارک زندگی سے اس کے روشن نمونے نذر قارئین ہیں:
(۱) خلیفۂ اول سید نا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ:
خلیفۂ اول سیدنا ابو بر صدیق رضی اللہ عنہ بے شمار فضائل وکمالات کے مالک ہیں، مختصر یہ کہ آپ ’’افضل الخلق بعد الانبیاء (نبیوں کے بعد ساری مخلوق سے افضل)ہیں، آپ نے رسول اکرم ﷺ سے خوب خوب فیض صحبت پایا، سفر وحضر میں سرکار کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔ ہجرت کے جاں گداز اور مشقت خیز سفر آپ کو سکار اقدس ﷺ علیہ وسلم کے ہم رکاب رہنے کا موقع نصیب ہوا۔ آپ قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے خوب خوب واقف وآگاہ تھے ۔‘‘اس سب کے باوجود آپ سے سورہ عبس کی آیت ’’وفاکھۃ و ابًّا‘‘ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا:’’أ یُّ سماءٍ تظلنی وای أرضٍ تقلنی اذا قلت فی کتاب اللہ مالا علم الی بہ‘‘(۱۲)کون سا آسمان مجھ پر سایہ فگن ہوگا اور کون سی زمین میرا بوجھ اٹھائے گی جب میں کتاب اللہ کے بارے ایسی بات کہوں گا جس کا مجھے علم نہیں۔ یعنی اس لفظ کے بارے میں مجھے یقینی طور پر معلوم نہیں، اس لیے میں اس کے تعلق سے کچھ نہیں کہہ سکتا، اگر بغیر جانے ہوئے کچھ کہوں تو میں اس زمین کے اوپر ، اور آسمان کے سایے میں رہنے کے لائق نہیں ۔
(۲) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ:
آپ خلیفہ دوم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ کے صاحب زادے ہیں، ام المؤ منن حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا آپ کی حقیقی بہن تھیں، آپ کے فضال ومناقب بہت ہیں۔شیخ ولی الدین محمد بن عبد اللہ خطیب تبریزی لکھتے ہیں:’’کان من اھل الورع والعلم والزھد، شدیدی التحری والاحتیاط ۔ قال جابر بن عبد اللہ ما منا أحد الا مالت بہ الدنیا ومال بھا ماخلا عمر وابنہ عبد اللہ ، وقال میمون بن مھران: مارأیت اورع من ابن عمر‘‘(۱۳)آ پ صاحب تقویٰ صاحب علم، صاحب زہد وورع اور محتا ط بزرگ تھے ، حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو دنیانے اپنی طرف مائل کیا اور اس کی طرف کچھ نہ کچھ جھکائو ہوا، سوائے حضڑت عمر اور ان کے صاحب زادے عبد اللہ کے میمون بن مہر ان کا بیان ہے : میں نے ابن عمر سے زیادہ پر ہیز گار کسی کو نہیں دیکھا۔آپ ہمیشہ حق پر قائم رہے، حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ آپ بھی ان بزرگوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے یزید کی بیعت نہیں کی۔ان سب فضائل وکمالات کے باوجود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ کو جن باتوں کا صحیح علم نہ ہوتا نہیں بیان نہ فرماتے تھے۔امام شمس الدین ذہبی نے، حضرت قاسم بن محمد رضی اللہ عنہ کا یہ قول اپنی کتاب’’سیراعلام النبلاء‘‘ میں اس طرح نقل فرمایا:’’حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ میری خوب نشست وبرخاست رہی، تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے یہاں تقویٰ اور احتیاط کےس اتھ علم کی کثرت، اور فراوانی دیکھی، اور یہ دیکھا کہ جن باتوں کا انہیں علم نہ ہوتا ان کو بیان کرنے سے گریز کرتے تھے۔ ‘‘(۱۴)
(۳) حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہم:
آپ حضرت ابو بر صدیق رضی اللہ عنہ کے پوتے، اور حضرت محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہما کے صاحب زادے تھے، آپ کی صاحب زادی ام فروہ ، حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں۔ جب ۳۸ ھ میں آپ کے والد گرامی حضرت محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مصر میں شہید کر دیا گیا تو اس وقت آپ کم سن تھے (۱۵) اس لیے آپ کی پرورش وپرداخت اور تعلیم وتربیت یتیمی کی حالت میں آپ کی پھوپھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ہوئی، اور آپ حضرت ام المومنین کے علمی فیضان سے خوب بہرہ ور ہوئے۔ آپ سے دو سو حدیثیں مروی ہیں۔ (۱۶)آپ کبارِ تابعین اور مدینہ طیبہ کےس ات مشہور فقہا سے شمار کیے جاتے ہیں۔ حافظ شمس الدین ذہبی نے ان الفاظ میں آپ کے علمی مقام ومرتبہ کا اظہار کیا ہے:’’الامام ، الحافظ ، الحجۃ، عالم وقتہ بالمدینہ مع سالم وعکرمہ‘‘آپ امام ومقتدا، حافظ، حجت اور حضرت سالم اور عکرمہ کے ساتھ ہی اپنے وقت میں مدینہ منورہ کے عالم وفقیہ تھے۔حضرت یحیٰ بن سعید انصاری کہتے ہیں:’’ ماأدرکنا بالمدینہ احدًا نفضلہ علی القاسم‘‘ہمیں مدینہ منور ہ میں کوئی ایسا شخص نہ ملا جسے قاسم بن محمد پر فوقیت دیں۔حضرت ابو الزناد کہتے ہیں:’’مارأیت احدًا أعلم بالسنۃ من القاسم بن محمد، وماکان الرجل یعدرجلا حتی یعرف السنۃ، وما رأیت احد ذھناً من القاسم‘‘(۱۷)میں نے قاسم بن محمد سے بڑھ کر حدیث کا عالم کوئی شخص نہیں دیکھا، جب کہ اس وقت کسی آدمی کو آدمی نہیں شمار کیا جاتا تھا جب تک وہ حدیث کا علم نہ رکھتا ہو، اور میں نے قاسم بن محمد سے زیادہ ذہین آدمی نہیں دیکھا۔مگر اس جلالت علمی کے باوجود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ سوالوں کے جواب دینے میں بہت احتیاط سے کام لیتے تھے، اور جواب معلوم نہ ہونے کی صورت میں صاف صاف اپنی لاعلمی کا اظہار فرمادیتے ، یا خاموش رہتے تھے۔حضرت امام مالک سے منقول ہے کہ مدینہ کا ایک حاکم حضرت قاسم کے پاس حاضر ہوا، اور ان سے کوئی بات پوچھی ، تو انہوں نے فرمایا:’’ ان من اکرام المرء نفسہ أ ن ا یقول الا ماأحاط بہ علمہ‘‘انسان کو جو معلوم ہو وہی بتائے ، تو وہ خود اپنی عزت افزائی کرتا ہے۔
حضرت یحیٰ بن سعید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ لا ن یعیش الرجل جاھلاً بعد أن یعرف حق اللہ علیہ، خیر لہ من أن یقول مالا یعلم۔‘‘انسان فرائض وواجبات سے آگاہ ہونے کے بعد (دیگر چیزوں سے) بے علم رہ کر زندگی گزار ے، یہ اُس کے لیے اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ ایسی بات بیان کرے جس کا اسے علم نہ ہو۔حضرت ابو الزناد فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد صرف اسی چیز کا جواب دیتے تھے جوان کے نزدیک ظاہر اور عیاں ہوتی ۔ (۱۸)
(۴) حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ
آپ ان چار ائمہ مجتمدین میں سے ہیں جن کے مقلدین اور پیرو کار آج بھی بڑی تعداد میں دنیا میں پائے جاتے ہیں آپ کی ولادت ۹۵ھ اور وفات ۱۷۹ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی اور وہیں کے قبرستان جنۃ البقیع میں آرام فرماہیں۔آپ شہر رسول ’’مدینہ منورہ ‘‘ کا حد درجہ احترام کرتے تھے، آپ کے سوانح نگاروں کا بیان ہے کہ بڑھا پے کی عمر میں جب کہ آپ بہت ضعیف اور کمزور ہو گئے تھے ، آپ کے سوانح نگاروں کا بیان ہے کہ بڑھا پے کی عمر میں جب کہ آپ بہت ضعیف اور کمزور ہوگئے تھے ان کے باوجود کبھی مدینہ منورہ میں سواری پر سوار نہیں ہو تے تھے اور فرماتے تھے:’’ لاأرکب فی مدینۃ فیھا جثۃ رسول اللہ ﷺ مدفونۃ ‘‘ (۱۹)میں اس شہر میں میں سواری نہیں کروں گا جس میں رسول اللہ ﷺ کا جسم اطہر مدفون ہے۔آپ شہر رسول ہی کی طرح دیث رسول کا بھی حد درجہ احترام کرتے تھے ، جب حدیث بیان کرنا ہوتا تو پہلے وضو کر تے ، داڑھی میں کنگھا کرتے ، اور پورے وقار کے ساتھ مسند نشیں ہوئے، پھر حدیث بیان کرتے، لوگوں نے جب آپ سے اس قدر احتیاط اور اہتمام کا سبب دریافت کیا تو فرمایا:’’أ حب ان اعظم حدیث رسول اللہ ﷺ ، ولا أ حدث بہ الا علی طھرۃ متمکنا ۔ ‘‘(۲۰)مجھے رسول اللہ ﷺ کی حدیث کی تعظیم وتکریم محبوب ہے، اور اسی لیے میں بیٹھ کر باوضو حدیث بیان کرتا ہوں۔ان کے علمی تبحر کا اندازہ ہاس سے لگائیے کہ حدیث نبوی میں ان کے باورے میں پیشین گوئی آئی ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’یُو شِک أَن یَضرِبَ النّاسُ أکبادَ الاِبل یطلبون العلم فلا یجدون أحدًا أعلمَ من عالم المدینۃً ‘‘ رواہ الترمذی۔ (۲۱)لوگ علم کی تلاش وجستجو کرتے ہوئے اونٹوں کو دوڑاتے پھریںگے تو عالم مدینہ سے بڑا کوئی عالم نہ پائیںگے۔حضرت سفیان بن عیینہ اور حضرت عبد الرزاق فرماتے ہیں کہ یہ عالم مدینہ حضرت امام مالک ہیں۔ (۲۲)
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں:’’ لو لا مالک وابن عیینۃ لذھبَ علم والحجاز ‘‘ (۲۳)اگر امام مالک اور حضرت سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم ختم ہو جاتا ۔امام شافعی سے یہ بھی منقول ہے ۔ ’’ اذا ذکر العلماء فمالک النجم ‘‘ ۔ (۲۴)جب علما کا تذکرہ ہو تو امام مالک ثریا ستاہ کی طرح ہیں۔مگر اس عالمانہ ، فقیہانہ اور محدثانہ جلالت شان کے باوجود آپ کا حال یہ تھا کہ آپ کو جن باتوں کا یقینی علم نہ ہوتا ان کے بارے میں صاف فرمادیتے کہ یہ بات مجھے معلوم نہیں۔حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں :’’ انَّ مالکًا سئل عن أر بعینَ مسئلۃً فأجاب عن أربعۃً ، وقال فی ست وثلا ثین: لا أدری ‘‘ (۲۵)امام مالک سے ایک مجلس میں چالیس مسئلے پوچھے گئے تو آپ نے صرف چار کا جواب دیا اور چھتیس مسائل کے بارے میں فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔
(۵) حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ
سید نا امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کو فی رضی اللہ عنہ چار مشہور ائمہ مجتہیدین میں نمایاں اور ممتاز حیثیت کے مالک ہیں آپ رسول اکرم ﷺ کی بشارت ہیں۔امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے رسول اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ’’ لو کان العم بالثریالتنا ولہ اناس من أبناء فارس ‘‘ (۲۶)اگر علم اوج ثریا پر (معلق ہوا تو بھی اسے اہل فارس میں سے چند لوگ حاصل کرلیںگے )امام جلال الدین سیوطی نے’’ تبییض الصحیفہ ‘‘میں ، ص۳،علامہ ابن حجر مکی نے ’’الخیرات الحسان‘‘ صف ۱۴ پر اور علامہ ابن عابدین شامی نے ’’ردالمحتار ‘‘ ج۱، ص۳۷ پر صراحت کے ساتھ لکھا کہ اس سے مراد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ہیں۔چاروں ائمہ مجتہدین میں سے صرف امام اعظم رضی اللہ عنہ ہی تابعی ہیں آپ اکابر صحابہ وتابقین کے علم حدیث وفقہ میں وارث ہیں، سارے ممتاز محدثین کے بلا واسطہ یا بالواسطہ استاذ ہیں۔ آپ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے بھی بالواسطہ شیخ ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں چالیس ایسے باکمال عالم وفقیہ ہیں جو منصب اجتہاد پر فائز ہیں۔فقہ واجتہاد اور علمی ودینی فضل وکمال میں آپ ایسی مسلم الثبوت شخصیت کے مالک ہیں کہ بڑے بڑے محدثین اور ائمہ مجتہدین نے کھلے لفظوں میں آپ کی اس حیثیت کا اعتراف کیا ہے۔امام شافعی علیہ الرحمۃ والرضوان سے روایت ہے کہ امام مالک سے پوچھا گیا کیا آپ نے امام ابو حنیفہ کو دیکھا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:’’ نعم ، رأیت رجلاً لو کلمک طی ھذہ الساریۃ أن یجعلھا ذھباً لقام بحجتہ ‘‘ ۔ہاں میں نے ایسے شخص کو دیکھا ہے اگر وہ تم سے اس ستون کے سو نا ہو نے کا دعویٰ کریں تو دلل سے اسے ثابت کردیں۔یہی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ من أراد أن یتبحر فی الفقہ فھو عیال علی أبی حنیفۃً ۔ (۲۷)جو بھی فقہ میں کمال حاصل کرنا چاہے تو وہ امام ابو حنیفہ کا محتاج اور دست نگر ہے۔حدیث، فقہ اور تصوف کے مشہور امام حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:’’ رأیت مسعراً فی حلقۃ ابی حنیفۃ یسألہ ویستفید منہ ، وقال : مارأیت أفقہ منہ ۔‘‘ (۲۸)میں نے حضرت مسعر بن کدام کو امام ابو حنیفہ کے حلقۂ درس میں ان سے سوالات کرتے اور استفادہ کرتے دیکھا ہے، اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے ان سے بڑا کوئی فقیہ نہیں دیکھا۔
حضرت عمر فرماتے ہیں:’’ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو لغت میں اچھی طرح گفتگو کر سکتا ہو ، قیاس بھی کو سکتا ہو، حدیث کی توضیح وتشریح بھی کر سکتا ہو، اور ان امور میں امام ابو حنیفہ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ ‘‘حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں:’’ ہم لوگ امام ابو حنیفہ کے سامنے اس طرح تھے جیسے باز کے سامنے چڑیاں ہوں، ابو حنیفہ علما کے سردار ہیں۔ ‘‘ (۲۹)مگر اس علمی جلالت اور فقہی کمال کے باوجود وہ اس قدر محتا ط تھے کہ جب ان سے کوئ بات پوچھی جاتی اور ان کو اس کا علم نہ ہو تا تو صاف کہہ دیتے کہ مجھے معلوم نہیں ، یا خاموش رہتے شیخ محقق حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں:’’ابراہیم بن سعید جوہری سے مروی ہے کہ میں ایک دن امیر المومنین ہارون رشیدکے پاس تھا کہ ان کے پاس امام ابو یوسف تشریف لائے، امیر المومنین نے کہا ابو یوسف مجھے امام ابو حنیفہ کے اخلاق کے بارے میں بتائیں، امام ابو یوسف نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے:’’ مَا یلًفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَ قِیْبٌ عَتِیْدٌ ۔کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک محافظ تیار ہوتا ہے۔ اور یہ ہر بات کرنے والے کی زبان کے پاس ہوتا ہے، امام ابو حنیفہ کے بارے میں میرا علم ہے کہ وہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کاموں سے شدت کے ساتھ منع کرنے والے تھے، اللہ تعالیٰ کے دین کی جو بات ان کے علم میں نہ ہوئی اس کے کہنے سے سخت پر ہیز کر تے تھے، وہ اس بات کو محبوب رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی نہ کی جائے، وہ دنیا کے معاملےمیں دنیا داروں سے الگ رہتے تھے، دنیا کی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لیتے تھے چاہے وہ قیمتی ہو یا معمولی ، ان کی خاموشی طویل ہوتی تھی ہر وقت غور وفکر میں مصروف رہتے ان کا علم وسیع تھا، فالتو اور لغو گفتگو نہیں کرتے تھے، ان سے کوئی علمی مسئلہ پوچھا جاتا تو اگر انہیں اس مسئلے کا علم ہوتا تو اس پر گفتگو فرماتے اور جو کچھ سنا ہوتا بیان کر دیتے ورنہ خاموش رہتے ، وہ اپنی جان اور اپنے دین کی حفاظت کرتے تھے، علم اور مال کثرت سے خرچ کرتے، اپنی ذات اور اپنی دولت کی بنا پر سب لوگوں سے بے نیاز رہتے، لالچ کی طرف میلان نہیں رکھتے تھے، غیبت سے یکسر دور تھے، اور کسی کا ذکر سوائے بھلائی کے نہیں کرتے تھے۔
ہارون رشید نے کہا کہ یہ صالحین (اولیا ے کرام) کے اخلاق ہیں، پھر منشی کو کہا کہ یہ صفات تحریر کر کے میرے بیٹے کو پہنچا دو تاکہ وہ ان کا مطالعہ کرے پھر اپنے بیٹے کہا ان اوصاف کو یاد کرلو، میں تم سے سنوںگا۔ (۳۰)ایک بار آپ سے ’’دھر‘‘ کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے صاف صاف اپنی لاعلمی ظاہر کردی ۔ (۳۱)
مصادر ومراجع:
(۱) مشکوٰۃ المصابیح ، شیخ ولی الدین محمد بن عبدا للہ الخطیب التبریزی، ج۱، ص ۳۴، مطبوعہ مجلس برکات ، جامعہ اشرفیہ مبارکپور ، ۱۴۲۳ھ ۲۰۰۲ء
(۲) مصدر سابق،
(۳) مصدر سابق،
(۴) مصدر سابق،
(۵) مصدر سابق ، ص: ۳۶
(۶) مصدر سابق، ص ۳۵
(۷) مصدر سابق ، ص ۳۵
(۸) مصدر سابق، ص ۳۵
(۹) مصدر سابق، ص ۳۳
(۱۰) مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، مفتی احمد یار خاں نعیمی، ج۱، ص: ۱۹۳، مطبوعہ ادارہ استقامت ، ریل بازار کانپور (غیر مورخ)
(۱۱) مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب العم ، الفصل الثالث، ج:۱، ص: ۳۷
(۱۲) مرقاۃ المفاتیح، علامہ ملا علی بن سلطان محمد قاری، ج:۱، ص: ۴۸۰ ، دارُ الکتب العمیہ ،بیروت ، لبنان، الطبعۃ الاولیٰ، ۱۴۲۲ھ/ ۲۰۰۲ء
(۱۳) الاکمال فی اسماء الرجال، شیخ ولی الدین محمد بن عبد اللہ الخطیب التبریزی ص : ۶۰۵، مع مشکوٰۃ المصابیح مطبوعہ مجلس برکات، جامعہ اشرفیہ مبارکپور ۔ ۱۴۳۳ھ/ ۲۰۰۲ء
(۱۴) سیر أعلام النبلاء ، حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی، ض۵، ص: ۳۳، مطبوعہ دارُ الکتب العمیہ، بیروت، ۱۴۲۵ھ/ ۲۰۰۴ء
(۱۵) الاکمال فی اسماء الرجال ، مع مشکوٰۃ المصابیح، ص ۶۱
(۱۶) سیر أعلام النبلاء، ج: ۵،ص : ۳۳
(۱۷) مصدر سابق، ص ۳۲، ۳۳، ملتفظاً
(۱۸) مصدر سابق، ص: ۳۴
(۱۹) مقدمۃ التعلیق الممجد علی موطا الامام محمد، علامہ عبد الحئی فرنگی محلی لکھنوی ،ص: ۱۴، مجلس برکات جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور ۱۴۲۵ھ/۲۰۰۴ء
(۲۰) حلیۃ الاولیاء حافظ ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی، ج:  ص: ۳۱۸، بیروت
(۲۱) مشکوٰۃ المصابیح ، ج: ۱، ص: ۳۵
(۲۲) مصدر سابق
(۲۳) الاکمال فی أسماء الرجال للتبریزی، ص: ۶۲۴
(۲۴) مصدر سابق
(۲۵) مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ض:۱، ص: ۴۸۰
(۲۶) مسند احمد بن حنبل ، ج: ۲، ص ۲۹۶، المکتب الاسلامی، بیروت البنان ، ۱۳۹۸/ ۱۹۷۸ء
(۲۷) الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان، ص: ۲۵، ۲۹، ملتقطاً دارُ الکتب العربیۃ ، الکبریٰ ، مصر، ۱۳۲۶ھ۔
(۲۸) مصدر سابق، ص: ۳۱
(۲۹) تحصیل التعرف فی معرفۃ الفقہ والتصوف، مترجم بنا ’’ تعارف فقہ وتصوف‘‘ ص: ۲۱۹، ۲۲۰ تصنیف : شیخ عبد الحق محدث دہلوی ترجمہ اردو علامہ عبد الحکیم شرف قادری لاہوری مطبوعہ اعتقاد

مزید پڑھیں:خطاکاحقیقی مفہوم اور بے علموں کی جرأت خطا

مزید پڑھیں:تضمین برکلام علامہ جمیل الرحمن رضوی بریلوی

مزید پڑھیں:فتح اَیوانِ کسریٰ:تاریخی تناظر میں

مزید پڑھیں:آج کی تازہ ترین خبروں کا بلیٹن

 

 

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

ماں

ماں کا مقام قرآن وحدیث کی روشنی میں 

   ماں ایک باشعور اور عظیم خاتون ہے- جو بچوں کی زندگی میں باد صبا کی مانند ہے- جو اولاد کے لیے طرح طرح کی تکلیفیں اٹھاتی ہے- جو اپنی اولاد کی خاطر اپنی آرزوؤں کا گلا گھونٹ دیتی ہے،

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔