کورونا: ۔۔۔اِک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا : احمدرضا صابری

کورونا: ۔۔۔اِک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا!


w.h.oکی گائیڈ لائن کے مطابق کورونا سے متاثر افراد کی حالت ۱۴ دن کے اندر اندر بگڑنے لگتی ہے اوروہ چاہے نہ چاہے اسے ڈاکٹر کے پاس جانا ہی پڑتا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ مجھے کورونا ہو اور میں حکومت کی نظروں سے بچ کر ٹھیک ہوجاؤں تو یہ اس کی بہت بھیانک غلطی ہوگی جو اس کو اس کے پورے خاندان کو بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔اس لیے اگر کسی کو بھی اسطرح کی کوئی بھی علامات ہوں جو کرونا مریض کے لیے w.h.o(ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن) نے بتائی ہیں تو فورا ڈاکٹر کی صلاح لے اور اپنے آپ کو دوسروں سے دور کرے اسی میں اس کی اور اس کے عزیزواقارب کی بھلائی ہے۔

یہ تو بات ہوئی قاعدے اور اصول کی لیکن w.h.oکے چودہ دن والے فارمولے پر کچھ سنجیدہ سوال کھڑے ہوتے ہیں وہ یہ کہ اگر چودہ دن کے اندر کورونا کی علامات بیماری بن کر برسرعام آجاتی ہیں تو پھر جو لوگ ایک مہینے سے گھروں میں بند ہیں نہ ان سے کوئی ملا اور نہ وہ کسی سے ملے یا جن علاقوں میں پچھلے تیس دنوں سے نہ کوئی گیا نہ آیا پھر وہاں نئے معاملات کیسے مل رہے ہیں؟

جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ کورونا کہیں کسی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری نہیں بلکہ یہ منتقل ہونے والا وائرس ہے جو چین کے ووہان شہر سے سفر کرتا ہوا پوری دنیا میں منتقل ہواہے اور اس کا انتقال ہنوز جاری ہے۔

میڈیکل سائنس نے کورونا وائرس کے متعلق جو چودہ دن والا فورمولا بتا یا تھا وہ کئی مقامات پر غلط ثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کسی کے اندر چودہ دن سے زیادہ بھی علامات موجود ہوں اور اس کو خبر نہ ہو بیس روز یا تیس روز کے بعد وائرس بیماری کی شکل اختیار میں باہر آتا ہو؟
یاپھرایسا بھی ہوسکتا ہے کہ میڈیکل سائنس کا فورمولا صحیح ہولیکن جن علاقوں میں لاک ڈاؤن کے سبب کسی کا آنا جانا نہیں صرف کچھ ضروری سروسز والے افراد ہی باہر سے آنا جانا کرتے ہیںوہاں پر وائرس ان ضروری سروسز والوں کے ذریعہ پہنچ رہا ہو؟ یا پھر پاس حاصل کرکے جو لوگ ایمرجنسی سفر کررہے ہیں ان کے ذریعے وائرس ان علاقوں میں پہنچ رہاہو؟
بہر حال وجہ چاہے جو بھی ہو،آخر اتنے لمبے لاک ڈاؤں کا کیا فائدہ جب لاک ڈاؤن کے باوجود بھی وائرس انسانوں کے ذریعے سفر طے کرکے ایک جسم سے دوسرے جسم، ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں، ایک شہر سے دوسرے نئے شہر میں منتقل ہوہی رہا ہے ۔

آخر کہاں ہورہی ہے چوک؟ پورے ملک میں تالا لگا کر بیٹھ جانے اور ٹیلی ویژن پر آکر لچھے داربھاشن کرنے سے کورونا کنٹرول نہیں ہونے والا اس کے لیے ضروری ہے لاک ڈاؤن کی خامیوں اور کمیوں کو تلاش کرکے انہیں دور کرنے کی۔

دربھنگہ ضلع اور ایسے کئی علاقے ہیں جہاں اب تک کورونا نہیں تھا لیکن اب دوچار روز قبل وہاں بھی پازیٹیو مریض ملنے لگے جو کہ تیس روز کے لاک ڈاؤں کے بعد کا واقعہ ہے تو پھر سوال اٹھنا لازمی ہے کہ آخر یہاں کورونا کہاں سے آیا؟ کوئی تو کڑی ہوگی، کوئی تو ہے جو اس لاک ڈاؤن میں بھی کورونا لے کر سفر کررہا ہے؟ایسا تو نہیںہے کہ کوئی وہاں پچھلے تیس دنوں سے کورونا اپنے اندر لے کر چھپا بیٹھا تھا اور اچانک باہر آیا، w.h.oکے چودہ روز والے فارمولے کے مطابق تو یہی لگتا ہے کہ جو بھی کورونا کا پہلا مریض سامنے آیا وہ صرف چودہ روز پہلے پازیٹیو ہوا ہوگا۔

 لازم ہے کہ حکومت ان کڑیوں کی تلاش کرے اور اس طرح کے تمام اندیشے کو اور ایسے تمام افراد کو ریچ آؤٹ کرے جو کورونا کیرئیر کا کام کررہے ہیں اور لاک ڈاؤن کو مضبوطی سے لاگو کرے۔


اور بھی کچھ۔۔۔!! ان شاء اللہ اگلی تحریر میں، اس موضوع پر کمینٹ باکس میں آپ بھی اپنی رائے رکھ سکتے ہیں۔ والسلام

احمدرضا صابری

  • Posts not found

کے بارے میں alrazanetwork

یہ بھی چیک کریں

اسد اقبال

اسداقبال صاحب! بات درست بھی ہوتو بھی کہنے والے کا اپنا کردارمعنی رکھتا ہے!

ثناخوانی حبیب علیہ الصلوٰ والسلام جیسے مقدس عمل کو کارپوریٹ سیکٹر میں تبدیل کرکے ایک نفع بخش تجارت کی شکل دینے کا سہرا جس کے سرہو وہ اپنے آپ کو دیندار شاعرخود اپنی زبان سے کہےتو ری ایکشن فطری بات ہے۔

Leave a Reply

واٹس ایپ پیغام بھیجیں۔
%d bloggers like this: